انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 469

انوار العلوم جلد ؟ ۴۶۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) کر لو۔ پھر حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق جھگڑے کا بھی خود بخود فیصلہ ہو جائے گا۔ اور اس خیال میں نہ رہو کہ قرآن کریم نے نبی کی کوئی تعریف کی ہی نہیں۔ کیونکہ یہ ایک غلط خیال ہے۔ ایمانیات سے وہ کونسی بات ہے جس کے ماننے کا قرآن کریم نے حکم دیا ہو ۔ اور یہ نہ بتایا ہو کہ وہ ہے کیا ۔ اللہ تعالی پر ایمان لانے کا حکم ہمیں دیا گیا ہے تو ہمیں بالتفصیل اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا علم بھی دیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم شروع سے لے کر آخر تک اس کی ذات اور اس کی صفات کا نقشہ ہمارے سامنے کھینچتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کہتے ہیں تا نہ ہو کہ ہم مختلف جھوٹے معبودوں کے پھندے میں پھنس جائیں۔ اور حقیقی معبود کو ترک کر دیں۔ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اور قرآن کریم نے ایک بے معنی لفظ پر ایمان لانے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ مفصل بتایا ہے کہ ملائکہ کون ہیں ۔ ان کے کیا کام ہیں بندوں سے ان کا کیا تعلق ہے ان کے وجود کا کیا ثبوت ہے پھر اسی طرح کتب پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ الہی احکام اور اس کے شرائع کا نام کتاب ہوتا ہے۔ کتابوں پر کس طرح عمل کرنا چاہئے۔ ان کے سمجھنے کے آسان طریق کیا ہیں۔ ان کے معانی کرنے میں کن کن احتیاطوں کی ضرورت ہے ان کا کس حد تک ادب و پاس ہونا چاہئے۔ ان کے الفاظ و معانی کی کسی کسی طرح حفاظت کرنی چاہئے۔ کتابوں کے اترنے کی غرض کیا ہے ۔ پھر یوم آخر پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس کی بھی پوری کیفیت بیان کی گئی ہے۔ قیامت کیا ہو گی۔ وہاں انسان کے ساتھ کس کس طرح کا برتاؤ ہو گا۔ جنت و دوزخ کی کیفیت ان دونوں مقاموں کے مکینوں کے حالات بعث ما بعد الموت کے ثبوت اور دلائل سب بیان کئے گئے ہیں۔ غرض جس بات پر ایمان لانے کا ذکر ہے ہمیں اس کے نشان بھی بتائے گئے ہیں کہ وہ کیا شئے ہے اور اسکے متعلق جس قدر ضروری امور ہیں۔ سب پر روشنی ڈالی گئی ہے لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ خدا تعالی جو دراء الورا ہے۔ اور ملائکہ جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں اور قیامت جو مرنے کے بعد کی بات ہے اس کا حال تو ہمیں بتایا جائے۔ اور دوزخ و جنت جن سے حشر کے بعد معاملہ پڑنے والا ہے اس کی کیفیت بھی انسان پر روشن کی جائے۔ لیکن اگر نہ بتایا جائے تو یہ کہ نبی جو انسان اور خداتعالی کے درمیان ایک واسطہ کا کام دیتا ہے اور جس پر ایمان لانے یا نہ لانے پر ہی انسان کی نجات و عذاب کا دارو مدار ہے۔ وہ کیا شئے ہے اور نبی کسے کہتے ہیں؟ میرے مخاطب اس وقت غیر احمدی نہیں جو دلیل و برہان کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔ اور ہر چیز ادھند ماننے کے عادی ہیں جو اسلام کو اس لئے مانتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا کو اندھا دھند۔