انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 458

انوار العلوم جلد ۲ ۴۵۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) بیعت کی اور اس کے پر جلال کلام کو سنتے رہے وہ اس بات کو معلوم کرنے کے بعد بھی کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ مسیح موعود کی ہتک کرنے والا ہے بلکہ آنحضرت ا کی قوت فیضان کو بھی کمزور ثابت کرنے والا ہے اس طریق کو نہ چھوڑیں گے اور ضد پر قائم رہیں گے نہیں یہ نہیں ہو سکتا وہ کون سا شاگرد ہے جو اس بات کو معلوم کر کے بھی کہ اس کا تیر اس کے استاد کی چھاتی پر پڑتا ہے اور وہ کون سا بیٹا ہے ؟ سا بیٹا ہے جو یہ معلوم کر کے بھی کہ اس کی بندوق کا نشانہ اس کی ماں اور باپ دونوں ہیں اپنی کمان کو نیچے نہ کرلے گا۔ اور اپنی بندوق کا رخ دو سری طرف نہ کردے گا یہ ممکن ہے کہ بعض لوگ کسی خطرناک گہرے ابتلاء میں پڑ گئے ہوں لیکن وہ سینکڑوں آدمی جو اس وقت تک بعض ایسے خیالات پر قائم ہیں جن سے مسیح موعود اور آنحضرت ا کی ہتک ہوتی ہے ان سب کی نسبت میں ہرگز گمان نہیں کر سکتا کہ وہ صرف شرارت سے ایسا کرتے ہیں بلکہ ضرور ہے کہ اس مخالفت کا اصل باعث بہتوں کے لئے غلط فہمی اور ناواقفیت ہو ۔ ہاں مبارک ہیں وہ جو صبح کو بھول کر شام کو پھر اپنے گھر واپس آگئے اور اپنے باپ کو چھوڑ کر پھر اس سے معافی خواہ ہوئے وہ ضرور ایک دن اپنی حالت پر غور کریں گے اور اپنی حالت پر زار زار روئیں گے جب ان کو معلوم ہو گا کہ ایک معمولی غلطی کی بناء پر وہ مسیح موعود کی تعلیم کے، کے خلاف کرتے رہے۔ نہیں وہ اس کے احکام اور اس کے کام کو پاؤں کے نیچے روندتے رہے وہ اس پر تیر چلاتے رہے جس نے ان کی طرف کبھی انگلی ؟ انگلی بھی نہ اٹھائی تھی وہ اس کی پگڑی اتارتے رہے جس نے ان کے سروں پر پگڑیاں رکھی تھیں وہ اس سے دشمنی کرتے رہے جو ان کی محبت میں چور تھا آج اگر مسیح موعود دنیا پر پھر واپس آئے تو وہ اس نظارہ کو دیکھ کر کیا کہے کہ وہ غلطی جو میں نے دور کی تھی اسے پھر پھیلایا جا رہا ہے اور وہ بات جو میں نے خدا سے معلوم کر کے کسی تھی اسے رد کیا جا رہا ہے بیشک یہ ایک دردناک نظارہ ہو لیکن ورَبِّ مُحَمَّدٍ وہ اپنے آقا کی طرح اس بات سے پاک ہے کہ اس پر دو موتیں آئیں خدائے تعالیٰ اس کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے خود سامان کرے گا اور جیسا کہ اس نے فرمایا ہے وَلَا نُبْقِي لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا یعنی ان باتوں کو جو تیرے نام کے لئے دھبہ اور بد نام کن ہوں میں بالکل منادوں گا وہ ضرور اس بات کو جس میں اس کی ہتک ہوتی ہے مٹادے گا۔ اور خدائے تعالی کا فعل خود ظاہر فرمائے گا کہ آیا مسیح موعود کو نبی ماننے میں اس کی اور آنحضرت کی جنگ ہے یا عزت اور اب بھی وہ اپنے فعل سے ظاہر کر رہا ہے اور روز بروز گم گشتوں کو کھینچ کھینچ کر لا رہا ہے اور پراگندہ جماعت پھر اکٹھی ہو رہی ہے اور گواب دو فیصدی احمدی بھی