انوارالعلوم (جلد 2) — Page 450
انوار العلوم جلد ۲ ۴۵۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) لیکچر سیا لکوٹ صفحہ ۲۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۵) ۴- قرآن کریم میں نبی کی تعریف جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا"۔ " ایک غلطی کا ازالہ صدر روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۸) ۵- زبان عربی میں نبی کی تعریف عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پاکر بکثرت پیشگوئی کرنے والا۔ اور بغی بغیر کثرت کے یہ معنی متحقق نہیں ہو سکتے"۔ (مکتوب ۔ مکتوب مندرجہ اخبار عام ۱۹۰۸ء) ان تعریفوں سے جو سب کی سب ۱۹۰۱ء یا اس کے بعد کی ہیں صاف ثابت ہے کہ آپ نے نبی کی تعریف کو بعد میں بدل دیا تھا اور جیسا کہ ۱۸۹۹ء کے خط سے جس کا حوالہ میں اوپر نقل کر آیا ہوں ثابت ہے آپ پہلے تو اسلام کی اصطلاح میں نبی کے یہ معنی خیال کرتے تھے کہ نبی وہ ہے جو (۱) یا تو نئی شریعت لائے ۔ (۲) یا پہلی شریعت کے بعض حکم منسوخ کرے (۳) یا بلا واسطہ نبی ہو صفحہ ۱۲۷ اور چونکہ یہ باتیں آپ میں نہیں پائی جاتی تھیں ضرور تھا کہ آپ اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے لیکن ۱۹۰۱ء میں جب آپ کو معلوم ہوا کہ خدا تعالٰی کے نزدیک انبیاء کے نزدیک اسلام کی اصطلاح کے مطابق، قرآن کریم کے فیصلہ کے مطابق نبی کی تعریف وہی ہے جس کو آپ پہلے صرف لغت کی تعریف خیال کرتے رہے تھے اور اسلامی اصطلاح کے خلاف سمجھتے تھے یعنی کثرت سے امور غیبیہ کی خبر پانا جو خارق عادت نشان ظاہر کرنے والے ہوں یعنی نبی کے اتباع کی عزت اور اس کے مخالفین کی تباہی کی خبر دینے والے ہوں۔ تو ایسے شخص کا جب خدا تعالٰی نبی نام رکھے تو وہ نبی ہی ہوتا ہے نہ کہ محدث - تو آپ نے معلوم کیا کہ آپ واقعہ میں نبی ہیں۔ اور ابتدائے دعوئی سے اللہ تعالیٰ نے آ۔ آپ کو نبی کے مقام پر کھڑا کیا ہے اور یہ خیال آپ کا صرف قیاس کی بناء پر ہی نہیں بدلا بلکہ اللہ تعالی کے حکم کے ماتحت حضور نے ایسا کیا جیسا کہ فرماتے ہیں۔ آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم