انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 448

انوار العلوم جلد ۲ ۴۴۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) نہیں جانتے تھے کہ میں دعوے کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں پائی نہیں جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعوے کی آپ شروع دعوئی سے بیان کرتے چلے آئے ہیں وہ کیفیت نبوت ہے نہ کہ کیفیت محد ثیت تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تو تم نے کیوں ہماری نبوت کا انکار کیا۔ تمہارا یہ فرض تھا کہ بتاتے کہ ایسا دعوئی نہیں کیا جس سے اسلام کو منسوخ کر دیا ہو یا انحضرت ا سے الگ ہو کر نبوت پائی ہو ورنہ نبوت کا دعویٰ ضرور کیا ہے جو کچھ میں نے اوپر لکھا ہے یہ میرا خیال ہی خیال نہیں بلکہ واقعہ ہے اور حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے ثابت ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود ۱۸۹۹ء کے ایک خط میں جو الحکم ۱۸۹۹ء میں چھپ چکا ہے نبی کی تعریف مندرجہ ذیل الفاظ میں فرماتے ہیں : مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تعالٰی سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بجز محمد مصطفیٰ لال کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی الله خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے"۔ (الحکم جلد ۳ نمبر ۲۹ - ۱۸۹۹ء) اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ کا یہ عقیدہ تھا کہ اسلام کی اصطلاح کی رو سے نبی رہی ہو سکتا ہے جس میں مذکورہ بالا تین باتوں میں سے کوئی پائی جائے۔ یعنی (1) وہ جدید شریعت لائے۔ (۲) بعض احکام شریعت سابقہ منسوخ کرے۔ (۳) یا بلا واسطہ نبوت پائے اور چونکہ یہ باتیں آپ میں پائی نہ جاتی تھیں اس لئے آپ بالکل درست طور پر اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے تھے ہاں چونکہ لغت میں نبی کے لئے ان شرطوں میں سے کوئی شرط مقرر نہیں اس لئے آپ یہ فرما دیتے تھے کہ میرا نام صرف لغوی طور پر نبی رکھا گیا ہے اور اس کی یہ وجہ تھی کہ لغت میں جو شرائط نبی کی پائی جاتی تھیں وہ آپ آپ ا۔ اپنے اندر موجود پاتے تھے یعنی (1) کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ (۲) انذار و تبشیر سے پر امور غیبیہ کا