انوارالعلوم (جلد 2) — Page 446
انوار العلوم جلد ۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) لیکن بعد میں جب آپ کو الہامات میں بار بار نبی اور رسول کہا گیا اور آپ نے اپنی پچھلی تئیس سالہ وحی کو دیکھا تو اس میں برابر ان ناموں سے آپ کو یاد کیا گیا تھا پس آپ کو اپنا عقیدہ بدلنا پڑا۔ اور قرآن کریم سے آپ نے معلوم کیا کہ نبی کی تعریف وہ نہیں جو آپ سمجھتے تھے بلکہ اس کے علاوہ اور تعریف ہے اور چونکہ وہ تعریف جو قرآن کریم نبی کی کرتا ہے اس کے مطابق آپ نبی ثابت ہے تھے اس لئے آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ہوتے نبی کی وہ تعریف جس کے رو سے آپ اپنی نبوت کا انکار کرتے رہے ہیں یہ ہے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو کوئی نئی شریعت لائے یا پچھلی شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے یا یہ کہ اس نے بلا واسطہ نبوت پائی ہو اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو اور یہ تعریف عام طور پر مسلمانوں میں مسلم تھی۔ چونکہ انبیاء کی یہ سنت ہے کہ وہ اس وقت تک کسی کام کو نہ شروع کرتے ہیں نہ چھوڑتے ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ آئے اس لئے اس احتیاط انبیاء سے کام لے کر حضرت مسیح موعود بھی اسی عقیدہ پر قائم رہے کہ نبی میں مذکورہ بالا تین باتیں پائی جانی ضروری ہیں اور چونکہ آپ میں ان باتوں میں سے ایک بھی نہ پائی جاتی تھی اس لئے آپ اپنے الہامات کی یہ تاویل فرماتے کہ نبی سے مراد محدث ہے اور آپ کا درجہ محد ثیت کا ہے نہ کہ نبوت کا۔ اور نبی آپ کا نام صرف بعض جزئی مشابہتوں کی وجہ سے رکھ دیا گیا ہے یا صرف لغت کے معنوں کے لحاظ سے کیونکہ نبوت کے معنی خبر دینے کے ہیں۔ پس جو شخص خبر دے وہ جزئی طور پر نبی کہلا سکتا ہے اور رسول کا نام پا سکتا ہے ۔ لیکن بعد : بعد میں آپ نے معلوم کیا کہ نبی کے لئے شرط نہیں کہ وہ ضرور شریعت جدیدہ لائے یا بعض پچھلے حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبوت پائے بلکہ ئے بلکہ اس کے لئے اور شرائط ہیں جو آپ میں دعوائے مسیحیت کے وقت سے پائی جاتی ہیں اس لئے آپ نے اپنے آپ کو نبی کہنا شروع کر دیا اور اس کے بعد کبھی اپنے نبی ہونے سے انکار نہیں کیا۔ اگر کیا تو صرف اس بات سے کہ میں کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں اور نہ ایسا نبی ہوں کہ میں نے بلا واسطہ نبوت پائی ہے۔ پس سارا اختلاف نبوت کی تعریف کے اختلاف سے پیدا ہوا ہے جب تک آپ نبی کی یہ تعریف کرتے رہے کہ اس - کے لئے شریعت جدیدہ لانا یا بلا واسطہ نبی ہونا شرط ہے تب ۔ ہونا شرط ہے تب تک تو آپ اپنے نبی ہو- آپ اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے رہے اور گو ان باتوں کا اقرار کرتے رہے جو نبی ہونے کی اصلی شرائط تھیں اور جب آپ نے معلوم کیا کہ نبی کی شرائط کوئی اور ہیں وہ نہیں جو پہلے سمجھتے تھے اور وہ آپ کے اندر پائی جاتی ہیں تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اقرار کیا چنانچہ حقیقۃ الوحی کی مذکورہ بالا تحریر سے بھی یہ امر ثابت ہے کیونکہ اس