انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 437

انوار العلوم جلد ۲ ۴۳۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) پائے قرآن کریم و حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اور نہ عقل بتاتی ہے کہ جو شخص کسی کے واسطہ سے نہی ہوا ہو۔ اس کو باوجود شرائط نبوت پورا کرنے کے نبی نہیں کہنا چاہئے۔ اور وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ پس جب یہ دونوں باتیں ہر ایک نبی میں نہ قرآن کریم کے رو سے نہ احادیث کے رو سے نہ لغت عرب کے رو سے نہ عقل کے رو سے پائی جانی ضروری ہیں ۔ تو پھر اگر پھر اگر حضرت مسیح موعودان دونوں باتوں سے انکار کریں۔ اور کہیں کہ مجھ میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں تو اس سے آپ کے نبی نہ ہونے پر کیا حجت قائم ہوئی۔ کیا قرآن کریم یا حدیث یا لغت عرب سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جس میں یہ دو باتیں نہ پائی جائیں وہ نبی نہیں ؟ پھر کیوں ایک ایسا دعویٰ کرتے ہو جو خدا تعالی کی طرف سے نہیں۔ نبی کے لئے جو شرائط ہیں اور جن کے بغیر نبی نہیں ہو سکتا۔ وہ تو تین ہی ہیں۔ اور سب نبی ان باتوں میں مشترک ہیں اور لغت سے اور آیات قرآنیہ سے ثابت ہیں۔ حضرت مسیح موعود وہی شرائط قرار دیتے ہیں۔ اسلام اور باقی کل نبیوں کی اصطلاح میں بھی ایسے ہی لوگوں کو نبی کہتے ہیں۔ جن میں وہ تین باتیں پائی جائیں ۔ اور وہ تینوں باتیں حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہیں اور کبھی بھی حضرت مسیح موعود نے اپنے اندر ان تین باتوں کے پائے جانے یا ان میں سے ایک کے پائے جانے سے انکار نہیں کیا پس آپ کی کل کتب سے جو دعوائے مسیحیت کے وقت سے لکھی گئیں ثابت ہے کہ آپ اپنے عہدہ کی کیفیت کی جو تفصیل بیان کرتے رہتے ہیں وہ آپ کی نبوت کی گواہ اور شاہد ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نبی تھے ۔ اور یہ کہ جہاں آپ نے انکار کیا ہے اس بات سے انکار کیا ہے کہ میں کسی ایسی نبوت کالانے والا نہیں ہوں۔ جس میں شریعت جدیدہ ہو اور نہ اس بات کا مدعی ہوں کہ مجھے نبوت بلا واسطہ ملی ہے۔ پس ان حوالوں سے نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اور اگر دس ہزار ایسے حوالے بھی پیش کر دیئے جائیں۔ تو حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف کوئی ثبوت نہیں کیونکہ یہ دونوں باتیں تو شرائط نبوت میں ہیں ہی نہیں۔ بلکہ ایسی خصوصیات ہیں جو بعض میں پائی گئیں اور بعض میں نہیں۔ پہلی شرط تو بہت سے پچھلے نبیوں میں بھی نہیں پائی جاتی یعنی نئی شریعت کا لانا۔ اور دوسری بات نفس نبوت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ نہ قرآن کریم نے اسے شرط نبوت قرار دیا ہے نہ لغت نے نہ عقل چاہتی ہے کہ نبی وہی ہونا چاہئے جو براہ راست نبی ہو۔ نہ پہلے انبیاء میں سے کسی نے ایسا کیا ہے نہ احادیث میں یہ شرط مذکور ہے۔ پس اے عزیزو ! تم ان حوالوں سے کبھی مت گھبراؤ ۔ بلکہ جب کوئی شخص تمہارے سامنے ایسے حوالے پیش کرے۔ جن میں حضرت مسیح موعود نے اپنی نسبت لکھا ہے کہ میں نئی شریعت نہیں لایا۔ ۔