انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 419

انوار العلوم جلد ۲ ۴۱۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) نہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان کے بغیر بھی انسان نبی ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی کہ جن باتوں کا مفہوم نبوت سے کوئی تعلق نہیں مثلا یہ کہ بلا واسطہ نبی ہونا۔ اگر وہ سارے نبیوں میں پائی جائیں لیکن ایک شخص میں نہ پائی جائیں ۔ تب بھی اس کی نبوت میں کوئی نقص لازم نہیں آتا۔ اور آخر میں یہ کہ اگر خصوصیات کے اظہار کے لئے بعض الفاظ زائد کر دیئے جائیں۔ تو ان سے یہ مطلب نہیں ہوا کرتا کہ نفس درجہ میں کوئی فرق آگیا بلکہ صرف خصوصیت بتانی مد نظر ہوتی ہے اور ان باتوں کی تائید کے لئے میں نے حضرت مسیح موعود کی کتابوں سے بعض حوالے بھی نقل کر دیے ہیں جن سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزدیک بھی نبی کی وہی تعریف ہے جو میں نے قرآن کریم اور لغت عرب سے استنباط کر کے لکھی ہے۔ اور آپ اسی تعریف کو خدا تعالیٰ کی تعریف قرآن کریم کی تعریف ، نبیوں کی تعریف اسلام کی تعریف لغت کی تعریف قرار دیتے ہیں۔ اور یہ تعریف خدا کے حکم کے مطابق کرتے ہیں اور چونکہ پہلے نہایت وسعت سے میں یہ سب مضمون بیان کر آیا ہوں۔ اس لئے اس جگہ ان ہی مختصر الفاظ میں ان کا ذکر کر دینا کافی ہو گا۔ اور جو شخص ان باتوں کو سمجھ لے گا اس کے لئے نبوت کا مسئلہ بالکل آسان ہو جائے گا۔ اب میں مولوی صاحب کے وہ حوالے نقل کرتا ہوں۔ جن سے ان کے خیال میں حضرت مسیح موعود کی نبوت نبیوں کی سی نبوت نہیں رہتی بلکہ محدثین کی سی نبوت ثابت ہوتی ہے اور جن حوالوں سے انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا دعوی شروع سے ایک ہی قسم کی نبوت کا رہا ہے کبھی تبدیل نہیں ہوا۔ کیونکہ آپ نے جو کچھ توضیح مرام میں جو آپ کی دعوئی مسیحیت کے بعد پہلی کتاب ہے۔ لکھا ہے وہی آخر کی کتابوں میں لکھا ہے۔ اس بات کے متعلق تو میں۔ پہلے مفصل جواب دے آیا ہوں کہ حضرت صاحب نے اپنے مذہب میں کوئی تبدیلی کی ہے یا نہیں۔ ہاں اس بات کا جواب کہ وہ کیا تبدیلی تھی آگے چل کر انشاء اللہ دوں گا۔ بہر حال جناب مولوی صاحب حوالہ جات پیش کرتے ہیں: (صفحہ ۴ پر کتاب توضیح مرام سے ) " ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث اللہ ہو کر آیا ہے ۔ اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں۔ اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے۔ اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں گو اس کے لئے نبوت تا قلعہ نہیں مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے ۔