انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 414

انوار العلوم جلد ۲ ۴۱۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) ہوتی ہے جو تبشیر و انذار پر مشتمل ہو دوسری کوئی وحی یا الهام یا رویا ایسی یقینی اور قطعی نہیں کی جا سکتی کہ اس پر قرآن کریم کی طرح ایمان رکھا جائے اس کی یہ وجہ ہے کہ اگر کسی انسان کو الہام یا رویا میں بتایا جائے کہ تیرے ہاں ایک بیٹا ہو گا اور وہ ہو جائے یا اسے بتایا جائے کہ فلاں شخص مر جائے گا اور وہ مر جائے تو ظن غالب کہتا ہے کہ وہ رویا یا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی۔ لیکن یہ امکان بھی ضرور موجود ہے کہ شاید حدیث النفس ہی ہو یا یہ کہ شیطانی خواب ہو کہ ایسی خواہیں ہی گو اکثر غلط ہوتی ہیں لیکن کبھی درست بھی ہو جاتی ہیں لیکن وہ وحی جس میں تبشیر داندار کا پہلو ساتھ ہوتا ہے یقینی ہوتی ہیں اس لئے کہ حدیث النفس اور شیطان کو قدرت اور طاقت حاصل نہیں ہے۔ انسان کے خیالات یا شیطانی وساوس انسان کی نظروں کے سامنے ایک نقشہ کھینچ سکتے ہیں جو کبھی پورا بھی ہو جائے لیکن وہ قدرت و جلال کا اظہار نہیں کر سکتے اور اس میں اللہ تعالٰی کی قادرانہ قضاء کا رنگ نہیں پیدا ہو سکتا لیکن انبیاء کی وحی انذار و تبشیر کا پہلو اپنے ساتھ رکھتی ہے اور اللہ تعالی ان کی معرفت دنیا کو بتاتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی پناہ کی جگہ نہیں سوائے اس کے کہ اس انسان کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھ لو اور اگر دنیا اس کی باتوں کو نہ مانے گی تو اسے تباہ کر دیا جائے گا اور جو مانیں گے ان کی نصرت و مدد ہو گی اور خدائے تعالی اس وقت فرماتا ہے کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا " غرض کہ قادرانہ رنگ میں وہ شخص غیب کی خبریں دنیا کو سناتا ہے اور وقت پر ویسا ہی ہو جاتا ہے اور یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ اس کی وحی یقینی اور قطعی ہے اور اس پر ایمان لانا ایسا ہی فرض ہوتا ہے جیسا اور دوسری الہامی کتابوں پر ۔ اور اس پر ایمان نہ لانا یا اس میں شک کرنا ایسا ہی کفر ہوتا ہے جیسے اور کتابوں پر ایمان نہ لانا یا ان میں شک کرنا۔ کیونکہ شیطان کو پراگندہ خیالات کو قاورانہ کام دکھانے کی طاقت نہیں جیسے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ” یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے (دیکھو تجلیات الہیہ صفحہ ۲۰) غرض کہ وحی کا ایسا یقینی اور قطعی ہونا اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ اس میں انذار و تبشیر کا رنگ پایا جائے پس حضرت مسیح موعود کے نبی کی وحی کے لئے یقینی اور قطعی ہونے کی شرط لگانے کے ہیں اور صرف یہی معنی ہیں کہ اس میں انذار و تبشیر کا رنگ ہو اور مذکورہ بالا حوالہ میں وہ تینوں شرائط نبوت بیان کی گئی ہیں جو میں نے لغت عرب اور قرآن کریم سے ثابت کی تھیں یعنی (1) کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانا (۲) اس کا یقینی اور