انوارالعلوم (جلد 2) — Page 412
انوار العلوم جلد ۲ ۴۱۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) رسول اور محدث کہتے ہیں اور وہ خدا کے پاک مکالمات اور مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں۔ اور خوارق ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اور اکثر دعا ئیں ان کی قبول ہوتی ہیں" لیکچر سیالکوٹ صفحه ۲۳، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۵) یہ حوالہ تو بہت ہی صاف ہے اور دو پہلی شرائط نبوت جن کے پائے جانے سے انسان نبی کہلانے کا مستحق ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کا نام نبی رکھتا ہے نہایت وضاحت سے اس میں مذکور ہیں۔ اول یعنی کثرت مکالمات و مخاطبات کا پایا جانا جس کی تشریح حوالہ نمبر ۳ میں حضرت مسیح موعود نے خود فرمادی ہے کہ اس سے مراد وہ مکالمات ہیں جن میں کثرت سے غیب کی خبریں پائی جائیں دوم ان اخبار غیبیہ کا انذار و تبشیر کا رنگ رکھنا جسے حضرت مسیح موعود نے خوارق کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔ اور اس طرح ان لوگوں کی خوابوں یا الہاموں کو الگ کر دیا ہے۔ جنہیں بعض غیب کی خبریں تو بتائی جاتی ہیں لیکن وہ خوارق نہیں کہلا سکتیں۔ مثلاً کسی کو رویا ہو جائے کہ تیرے ہاں بیٹا پیدا ہو گا یا یہ کہ فلاں شخص مر جائے گا۔ اور یہ بات اسی طرح واقع بھی ہو جائے تو یہ رویا وحی نبوت کے ماتحت نہیں آئے گی جب تک ایسے آدمی کو اس قسم کے الہامات نہ ہوں جو اپنے اندر خارق عادت نشانات کی خبریں نہ رکھتے ہوں جس کا نام قرآن شریف نے تبشیر و انذار رکھا ہے یعنی ایک طرف تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے متبعین کی ترقیوں اور ان کے بڑھانے کے وعدے دے اور باوجو د دنیا کی مخالفت کے وہ خارق عادت طور پر پورے ہوں اور دوسری طرف اس کے مخالفین اور منکروں کی ہلاکت اور تباہی کی خبریں دے جو باوجود مخالفوں کی کثرت اور قوت اور شوکت کے بڑے زور سے پوری ہوں اور جو اس کا مقابلہ کرے وہی انذاری پیشگوئیوں کے ماتحت ہلاک ہو جائے اور جو اس کی باتوں کو سچے دل سے قبول کرے اور راست بازی سے ان پر عمل کرے اس کی تبشیری پیشگوئیوں کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ہاتھ دیکھے اور یہ دونوں باتیں ظاہر واقعات و اسباب و علل کی مخالفت میں پوری ہوں اور ان میں ایک خارق عادت نصرت الہی کا نشان پایا جائے۔ غرض کہ اس حوالہ سے بڑے روشن طور سے ثابت ہے کہ اسلام کی اصطلاح میں نبی وہی ہوتا ہے جو محبت الہی میں فنا ہو کر شفقت علی خلق اللہ کا سبق سیکھتا ہے اور پھر اس پر نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ یعنی کثرت سے امور غیبیہ کی اطلاع اسے دی جاتی ہے اور وہ اپنے اندرا ندارد تبشیر کا رنگ رکھتی ہیں اور خارق عادت طور پر ان کا ظہور ہوتا ہے اور عام ملموں کے الہامات اہمیت میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔