انوارالعلوم (جلد 2) — Page 24
انوار العلوم جلد ۲ ۲۴ منصب خلافت دیکھا ہے کہ کوئی کام اصلاح عالم کا نہیں جو اس سے باہر رہ جاتا ہو۔ پس آنحضرت ا کی اصلاح دنیا کی تمام اصلاحوں کو اپنے اندر رکھتی ہے۔ انبیاء علیهم السلام کے اغراض بعثت پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ لینا بہت آسان ہے خلفاء کا کام کہ خلفاء کا بھی یہی کام ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ جو آتا ہے اس کی غرض یہ بہ ہوتی ہوتی۔ ہے کہ اپنے پیشرو کے کام کو جاری کرے پس جو کام نبی کا ہو گا وہی خلیفہ کا ہو گا۔ اب اگر آپ غور اور تدبر سے اس آیت کود آیت کو دیکھیں تو ایک طرف نبی کا کام اور دوسری طرف خلیفہ کا کام کھل جائے گا۔ میں نے دعا کی تھی کہ میں اس موقعہ پر کیا کہوں تو اللہ تعالی نے میری توجہ اس آیت کی طرف پھیر دی اور مجھے اس آیت میں وہ تمام باتیں نظر آئیں جو میرے اغراض اور مقاصد کو ظاہر کرتی ہیں اس لئے میں نے چاہا کہ اس موقعہ پر چند استدلال پیش کردوں۔ مگر اس سے پہلے کہ میں استدلال کو پیش کروں میں خدا تعالیٰ کا شکر شکر ربانی بر جماعت حقانی کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے ایک ایسی جماعت پیدا کردی جس کے شکر برجماعت دیئے جانے کا انبیاء سے وعدہ الہی ہوتا ہے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ چاروں طرف سے محض دین کی خاطر اسلام کی عزت کے لئے اپنا روپیہ خرچ کر کے اور اپنے وقت کا حرج کر کے احباب آئے ہیں میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے مخلص دوستوں کی محنت کو ضائع نہیں کرے گاوہ بہتر سے بہتر بدلے دے گا کیونکہ وہ اس وعدہ کے موافق آئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود سے کیا تھا۔ اس لئے جب کل میں نے درس میں ان دوستوں کو دیکھا تو میرا دل خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھر گیا۔ کہ یہ لوگ ایسے شخص کے لئے آئے ہیں جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ چالباز ہے (نعوذ باللہ ) اور پھر میرے دل میں اور بھی جوش پیدا ہوا جب میں نے دیکھا کہ وہ میرے دوستوں کے بلانے ہی پر جمع ہو گئے ہیں۔ اس لئے آج رات کو میں نے بہت دعائیں کیں اور اپنے رب سے یہ عرض کیا کہ الہی میں تو غریب ہوں میں ان لوگوں کو کیا دے سکتا ہوں حضور آپ ہی اپنے خزانوں کو کھول دیجئے اور ان لوگوں کو جو محض دین کی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں اپنے فضل سے حصہ دیجئے ۔ اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا کیونکہ مجھے یاد نہیں میں نے کبھی درد دل اور بڑے اضطراب سے دعا کی ہو اور وہ قبول نہ ہوئی ہو بچہ بھی جب درد سے چلاتا ہے تو ماں کی چھاتیوں میں دودھ جوش مارتا ہے۔ پس جب ایک چھوٹے بچے کے لئے باوجود ایک قلیل اور عارضی تعلق کے اس کے چلانے پر چھاتیوں میں دودھ آجاتا ہے تو یہ نا ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی