انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 409

انوار العلوم جلد ۲ ۰۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) ملے گی تو بھی اسے معلوم ہو جائے گا کہ مجھے یہ نبوت فلاں نبی کے فیضان سے ملی ہے اور لوگوں کو خود بتادے گا کہ میں کیسا نبی ہوں چنانچہ اس کی میں ایک مثال دیتا ہوں۔ حضرت مسیح کو اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں صرف نبی کر کے پکارا ہے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ یہ ایسے نبی تھے جو شریعت موسویہ کی پابندی ری کرنے والے تھے اور اور قرآن قرآن کے کریم کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو جو الہام ہوئے ان میں بھی صرف نبی کا لفظ تھا غیر تشریعی غیر امتی کے الفاظ نہ تھے اور نہ ان کی ضرورت تھی کیونکہ خود حضرت مسیح اپنی وحی سے معلوم کر سکتے تھے کہ مجھ پر شریعت نازل نہیں ہوتی بلکہ صرف توریت کے بعض پوشیدہ اسرار کا انکشاف ہو رہا ہے اس لئے وہ آپ اپنی نبوت کی قسم بتا سکتے تھے۔ اور انہوں نے ایسا ہی کیا جیسا کہ متی باب ۵ آیت ۸٬۱۷ میں لکھا ہے : " یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے کو آیا ۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ " جائیں ایک نقطہ یا ایک شعشہ توریت سے ہر گز نہ مٹے گا۔ جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے ان دونوں آیتوں کے ابتدائی الفاظ سے ثابت ہے کہ چونکہ لوگوں میں یہ غلطی پھیلنے کا خوف تھا یا یہ کہ پھیل گئی تھی کہ شاید مسیح نئی شریعت کا دعوی کرے گا۔ اور کوئی نئی شریعت لائے گا اس لئے حضرت مسیح نے اعلان کیا کہ میں ان نبیوں میں سے نہیں ہوں جو شریعت لاتے ہیں بلکہ ان میں سے ہوں جو پہلی شرائع کو پورا کرنے اور کمال تک پہنچانے کے لئے آتے ہیں اور بد عملوں کو نیک اعمال والے بنانے کے لئے آتے ہیں۔ اب اس تشریح کو سن کر کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ مسیح نے اپنی نبوت سے انکار کیا یا یہ کہ خدا تعالیٰ کے الہام پر اس نے زائد بات لگا دی بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس نے بتایا ہے کہ میں کس قسم کا نبی ہوں اور چونکہ اس وقت تک صرف دو قسم کے نبی تھے ایک وہ جو صاحب شریعت ہوں اور ایک وہ جو غیر تشریعی غیر امتی ہوں اس لئے مسیح نے اپنے الفاظ میں لوگوں کو بتا دیا کہ میری نبوت سے یہ دھوکا نہ کھانا کہ یہ کوئی نئی شریعت لانے والی نبوت ہے بلکہ میں ایسا نبی ہوں جو پہلی شریعت کو پورا کرنے اور اس کی خدمت کرنے کے لئے آیا ہوں۔ اسی طرح ہمارے امام حضرت مسیح موعود کو بھی اللہ تعالیٰ نے صاف طور سے نبی اور رسول کہہ کر پکارا ہے اور اسی طرح پکارا ہے جس طرح حضرت موسیٰ و عیسی کو قرآن کریم میں رسول کرکے پکارا ہے اور خود آنحضرت ا نے بھی آپ کو اسی طرح نبی کے لفظ سے یاد فرمایا ہے جس طرح اور انبیاء کو۔ لیکن آپ کو معلوم تھا کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا ۔ اور یہ بھی کہ میری نبوت ے برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ شه