انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 404

انوار العلوم جلد ۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) تب ہی کہلا سکتا ہے جب اسے کسی اور نبی کی اتباع سے نبوت نہ ملے بلکہ براہ راست نبوت ملے خدا تعالیٰ کے کام تو لغو نہیں ہوتے اور نہ اس کا جسمانی سلسلہ روحانی سلسلہ کے خلاف چلتا ہے۔ کیا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ پانی صرف اس کی پیاس بجھاتا ہے جو اسے خود کنویں سے نکال کر پئے اور جو دوسرے کا نکالا ہوا پی لے اس کی پیاس نہیں بجھاتا۔ یا مثلا یہ کہ کھانا اس کا پیٹ بھرتا ہے جو خود پکا کر کھائے ورنہ دوسرے کا پکا کر دیا ہوا کھانا سیر نہیں کرتا تو کیا اس کی بات کو کوئی تسلیم کر سکتا ہے؟ پھر اس بات کو عقل سلیم کس طرح تسلیم کر سکتی ہے کہ نبی صرف وہی ہوتا ہے جو براہ راست نبوت پائے ورنہ جس کو نبوت واسطہ سے ملی اس کی نبوت نبوت ہی نہیں اور جبکہ قرآن کریم جو خداتعالیٰ کا کلام ہے اور چھوٹے بڑے سب امور میں حکم ہے وہ اس مسئلہ میں خاموش ہے اور آنحضرت ا جو قیامت تک کے لئے دنیا کے ہادی ہیں ایسی شرط کوئی نہیں لگاتے تو اپنے پاس سے یہ شرط لگانے والا کہ نبی رہی ہو سکتا ہے جو براہ راست شریعت لائے اپنے انجام پر غور کرے کہ ہدایت کے آجانے کے بعد ضلالت پر قائم رہنا خطر ناک نتائج کا پیدا کرنے والا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ لغت عرب اور قرآن کریم کے محاورہ کے مطابق رسول اور نبی رہی ہوتے ہیں جو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائیں اور مہتم بالشان تغیرات کی جو قوموں کی تباہی اور ان کی ترقی کے متعلق ہوں خبر دیں اور خدا تعالیٰ ان کا نام نبی رکھے اور جس انسان میں یہ بات پائی جائے وہ نبی ہے اور کوئی چیز اس کے نبی ہونے میں روک نہیں۔ اس امر کے سمجھ لینے کے بعد ہم حضرت مسیح موعود کی نبوت پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کی نبوت میں وہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں جو نبی اللہ کے لئے لغت و قرآن و محاورہ انبیائے گزشتہ سے لازمی معلوم ہوتی ہیں یعنی آپ کو کثرت سے امور غیبیہ سے خبر دی گئی اور پھر اہم تغیرات کے متعلق دی گئی جو انذار و بشارت دونوں حصوں پر مشتمل تھی اور پھر یہ کہ آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے نبی رکھا۔ پس آپ قرآن کریم دلفت و محاورہ انبیائے گذشتہ کی مطابق نبی تھے اور آپ کی صداقت کے ثابت ہو جانے کے بعد کوئی شخص آپ کی نبوت میں شک نہیں لا سکتا۔ اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ اگر قرآن کریم اور لغت عرب اور محاورہ انبیائے گذشتہ کے رو سے حضرت مسیح موعود کی نبوت ثابت ہے اور جو تعریف نبوت کی ہے وہ آپ پر صادق آتی ہے اور نفس نبوت کے لئے شرائط مذکورہ بالا سے زائد کی شرط کی اجازت نہیں تو آپ نے کیوں نبیوں کے ساتھ مختلف الفاظ لگا دیئے ۔ ان الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاید ؟ شاید بعض حالات میں بعض شخص نبی