انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 401

انوار العلوم جلد ۲ ۲۰۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) صرف ایک قبیلہ کی طرف مبعوث ہوئے اور بعض ایک قوم کی طرف۔ اور بعض ایک ملک کی طرف۔ اور ہمارے آنحضرت ا کل دنیا کی طرف۔ پس اس بات سے معلوم ہوا کہ انبیاء کے حالات میں فرق ہوتا ہے اور بہت بہت فرق ہوتا ہے لیکن باوجود ان فرقوں کے اللہ تعالیٰ ان سب کا نام نبی رکھتا ہے اور نہیں فرمانا کہ یہ فلاں قسم کا نبی ہے اور وہ فلاں قسم کا نبی۔ یا یہ کہ فلاں خصوصیت فلاں نبی میں پائی جاتی ہے اس لئے اسے ایسا نبی خیال کرو۔ اور فلاں خصوصیت فلاں نبی میں پائی نہیں جاتی اس لئے اسے فلاں قسم کا نبی خیال کرو۔ اور نہ یہ فرماتا ہے کہ جو شریعت لانے والے نبی ہیں ان کو سچے نبی اور حقیقی نبی سمجھو۔ اور جو شریعت نہیں لائے ان کو غیر حقیقی نبی خیال کرو۔ بلکہ جن جن افراد میں وہ باتیں جو میں اوپر لکھ آیا ہوں پائی جاتی ہیں ان کا نام اللہ تعالی نبی بیان فرماتا ہے اور نبی کے نام سے ان کو پکارتا ہے اور گو ان کے مدارج میں فرق رکھا ہے لیکن ان کے نبی ہونے میں فرق نہیں رکھا۔ اور سب کو ہی نبی کہہ کر پکارا ہے۔ اور پھر ہم جب آنحضرت ا کو دیکھتے ہیں جو قرآن کریم کے بہترین فہم رکھنے والے تھے۔ اور جو قرآن کریم کے سمجھنے والوں کے خاتم تھے اور ان سے بڑھ کر کوئی انسان قرآن کریم کو نہیں سمجھ سکتا۔ تو آپ بھی باوجو د انبیاء کی حالتوں اور ان کے کاموں کے فرق کے سب کو نبی کہہ کر ہی پکارتے ہیں اور جن کو خداتعالیٰ نے نبی کہا ہے ان کی نبوت کا انکار نہیں کرتے۔ بلکہ جسے خدا تعالیٰ نے نبی کہہ دیا اس کی نبوت کے مقتر ہیں اور نبی ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ موسیٰ جو شریعت لانے والے تھے۔ ان کو بھی نبی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ اور مسیح جو کوئی جدید شریعت نہیں لائے ان کو بھی نبی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ زکریا اور یحیی جو صرف ایک محدود جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے تھے ان کو بھی نبی ہی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ پس اسبات کو دیکھ کر ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ کسی کے نبی ہونے کے لئے شریعت کالا نا یا نہ لانا ایک قوم کی طرف مبعوث ہونا یا ایک ملک کی طرف ہرگز شرط نہیں۔ بلکہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں ہر ایک وہ شخص جسے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی اور اہم امور کے متعلق اس نے پیشگوئیاں کیں اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام نبی رکھا وہ نبی کہلایا اور واقعہ میں نبی تھا اور اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ قرآن کریم سارے کا سارا کھول کر دیکھ جاؤ اس میں ایک آیت بھی ایسی نہ ملے گی جس میں یہ بتایا ہو کہ نبی وہی ہوتا ہے جو شریعت لائے بلکہ اس کے خلاف قرآن کریم سے تو یہ ثابت ہے کہ ایسے بہت سے نبی گزرے ہیں جو شریعت نہیں لائے بلکہ پہلے انبیاء کے تابع تھے اور توریت پر عمل