انوارالعلوم (جلد 2) — Page 376
انوار العلوم جلد ۲ ۳۷۶ حقيقة النبوة ( حصہ اول) اعتراض بنالو۔ آخر وہ شخص جس طرح ہمارا سردار ہے تمہارا بھی سردار ہے۔ اس کے کلام کی وہ تغییر کیوں کرتے ہو ؟ جس سے اس پر اعتراضوں کی بوچھاڑ شروع ہو جائے۔ اور اس کے دعوئی اور اس کے تقویٰ میں شبہات پیدا ہو جا ئیں ۔ تم اپنے بچاؤ کے لئے مسیح موعود کی تحریروں کو بدلتے ہو ۔ اور اسے دنیا کی نظر میں ادنی ثابت کرتے ہو ۔ خوب یاد رکھو کہ عزت وہی ہے جو خدا تعالی کی طرف سے آئے نہ وہ کہ لوگ دیں۔ دنیا کیا دے سکتی ہے کچھ بھی نہیں۔ جو کچھ خدا دے سکتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا۔ دلوں پر اللہ تعالی کی ہی حکومت ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالٰی سے تعلق پیدا کرے۔ اللہ تعالٰی اس کی حکومت دلوں پر قائم کرتا ہے۔ اور خود سعیدوں کے دل میں اس کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔ پس اس محبت کی قدر کرو جو سعید روجوں سے حاصل کر سکتے ہو۔ خواہ پھٹے ہوئے کپڑوں اور میلے چیتھڑوں کے اندر ہی وہ ارواح کیوں مخفی نہ ہوں۔ ایک صادق دوست هزار با منافق راه راه کرنے والوں سے بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہ خوشی اور راحت میں تعریف کرتے ہیں اور وہ رنج و غم میں جان دینے سے دریغ نہیں کرتا پس مسیح موعود کے کلام کے وہ معنی نہ کرو۔ جن پر دشمن کو ہنسی کا موقع ملے ۔ اور توبہ کرو کہ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ سنو حضرت مسیح موعود کا یہ کلام صاف ہے آپ کو براہین کے زمانہ سے جو وحی ہو رہی تھی اس میں آپ کو ایک دفعہ بھی مسیح سے کم نہیں کہا گیا بلکہ افضل ہی بتایا گیا تھا لیکن آپ چونکہ اپنے آپ کو غیر نبی سمجھتے تھے اس کے معنی اور کرتے رہے۔ حتی که تریاق القلوب کے وقت بھی آپ کے یہی خیالات تھے۔ لیکن جب بعد کی وحیوں نے آپ کی توجہ اس طرف پھیری کہ ان وحیوں کا یہی مطلب تھا کہ آپ مسیح سے افضل اور نا اور نبی ہیں تو آپ نے تئیس سال کی وحی کو قبول کیا۔ پس یہ دونوں باتیں درست ہیں۔ یہ بھی کہ آپ کی تیس سال کی وحی میں مسیح پر افضلیت کا اظہار تھا۔ اور یہ بھی کہ آپ تریاق القلوب کے وقت تک حضرت مسیح کو افضل قرار دیتے تھے۔ اور بعد میں اس عقیدہ میں تبدیلی کی۔ پہلی بات اس لئے درست ہے کہ واقعہ میں ہمیشہ سے وحی الہی میں آپ کو صاف نبی کا خطاب دیا گیا تھا۔ اور دوسری اس لئے کہ آپ تریاق القلوب کے وقت تک اس وحی کی تاویل کرتے رہے۔ جناب مولوی محمد علی صاحب کے بعض اعتراضوں کا جواب مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں اس خیال کے رسالہ میں اس خیال کے خلاف کہ تریاق القلوب کے کسی