انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 370

انوار العلوم جلد ؟ ۳۷۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) دیکھا تو اس بچے ہوئے مضمون کے ساتھ ایک صفحہ اور بڑھا کر کتاب کو ختم کر دیا گیا تھا۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ تمام تریاق القلوب میں صرف ٹائٹل کا صفحہ اور صفحہ ۱۵۹- اور صفحہ ۱۲۰ یعنی کل تین صفحے دوسرے کاتب کے لکھے ہوئے ہیں۔ اور باقی کل تریاق القلوب مع ضمیمہ نمبر ۳ و ضمیمہ نمبر ۴ و ضمیمه نمبر ۵ میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ فقط - منظور محمد بقلم خود۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میں حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب کا صفحہ ٹائٹل پیج (PAGE) اور آخری ورق یعنی صفحہ ۱۵۹- اور صفحہ ۱۲۰ میرے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ اور حکیم فضل الدین صاحب مرحوم نے مجھے مضمون دیا تھا کیونکہ ان دنوں میں میں ان کے ماتحت کام کیا کرتا تھا۔ اور اس سے پہلے تریاق القلوب صفحہ ۱۵۸ تک مدت سے چھپی ہوئی پڑی تھی۔ جب میں نے ٹائٹل پیج (PAGE) اور آخری ورق لکھا تب یہ کتاب شائع ہوئی۔ عاجز کرم علی کاتب ریویو آف ریلیجز، قادیان میں مرزا محمد اسماعیل بیگ جو ضیاء الاسلام میں پریس مین تھا۔ شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب میں نے چھاپی۔ اور چھپ کر ایک مدت تک پڑی رہی۔ پھر اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ٹائٹل اور صرف آخری ورق یعنی صفحه ۱۵۹ تا صفحہ ۱۲۰ اچھاپ کر اسے شائع کر دیا گیا۔ مرزا محمد اسماعیل بیگ سابق پریس مین اشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ میں دسمبر ۱۹۰۰ء میں قادیان میں آیا تو تریاق القلوب اور تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ طبع شده تھیں۔ جن کی فرمہ شکنی مولوی برهان الدین صاحب مرحوم علمی اور ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب کی کوشش سے مہمانان نو وارد کیا کرتے تھے۔ صرف کسی قدر باقی تھی جو بروقت اشاعت بعد میں لکھوائی گئی۔ اور ۱۹۰۱ء میں جب میں ہجرت کر کے یہاں آیا تو ابھی یہ کتابیں شائع نہیں ہوئی تھیں۔ پھر ۱۹۰۲ء میں جب ان کی اشاعت کی ضرورت ہوئی تو منشی کرم علی صاحب کا تب سے ٹائٹل اور ایک ورق آخری یعنی صفحہ ۱۵۹ تا ۱۶۰ لکھوا کر کتاب شائع کی گئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ۱۹۰۰ء میں یہ کتاب قریباً ساری چھپی ہوئی تھی۔ کسی قدر مضمون باقی ماندہ پیچھے سے لکھوایا گیا جو دو ا جو دو سرے