انوارالعلوم (جلد 2) — Page 361
انوار العلوم جلد ۲ ۳۶۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) بات بالکل ثابت ہے کہ تریاق القلوب اور ریویو کے مذکورہ بالا دونوں بیانات میں اختلاف ہے۔ اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔“ ریویو میں فرماتے ہیں: تریاق القلوب صفحه ۴۵۳ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۸۱) خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ ९९ کر ہے ۔ ریویو آف ریپلیمری جلد اول نمبر ۶ صفحه ۷ ۲۵ ) اور اس اختلاف کی نسبت ایک شخص نے آپ سے سوال کیا ہے کہ یہ نے آپ سے سوال کیا ہے کہ یہ کیوں ہے تو آپ نے وہ جواب دیا جو او پر درج کیا گیا ہے اور آگے چل کر یہ بھی فرمایا " خلاصہ یہ کہ میرے کلام میں کوئی تناقض نہیں میں تو خدا تعالی کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس کا علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا۔ اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا " (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۰) یعنی یہ اختلاف میرے کلام کا نہیں کہ مجھے جھوٹا کہا جائے بلکہ بات یہ ہے کہ پہلے میں اجتہاد سے کہتا رہا مگر بعد میں اللہ تعالی کی وحی پر غور کر کے مجھے اپنا عقیدہ بدلنا پڑا اور میں پہلے قول کے مخالف کہنے لگا۔ پس یہ تو خدائے تعالی کی طرف سے ایک نیا علم تھا نہ کہ میرے اقوال کا تناقض اور اختلاف پہلا قول میرا تھا اور دو سرا خدا کا۔ اب اس جگہ وہ دوسرا اعتراض کیا جاتا ہے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ اگر یہ بھی ثابت ہو جائے که تریاق القلوب میں کچھ اور لکھا ہے اور ریویو میں کچھ اور ۔ تو بھی آپ کا مطلب ثابت نہیں ہوتا ہم کسی طرح مان لیں کہ تریاق القلوب کے حوالہ کو ریویو کے حوالہ نے منسوخ کر دیا کیوں نہ یہ کہا جائے کہ تریاق القلوب کے حوالہ نے ریویو کے حوالہ کو منسوخ کر دیا۔ اور ہماری بات اس دلیل سے اور بھی وزنی ہو جاتی ہے کہ ریویو کا مضمون وافع البلاء سے لیا گیا ہے جو ۱۹۰۲ء کے ابتداء میں شائع ہوا۔ اور تریاق القلوب اکتوبر ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے۔ پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو کتاب پہلے لکھی گئی وہ بعد کی کتاب کو منسوخ کر دے کیا کوئی عقل سلیم اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ جو بات بعد میں لکھی گئی وہ اس بات سے منسوخ ہو جائے جو اس سے چھ ماہ پہلے لکھی گئی جو حکم بعد میں دیا جائے وہ پہلے حکم کا ناسخ ہوتا ہے نہ کہ پہلا حکم بعد کے حکم کا ! بیشک یہ ایک ایسا اعتراض ہے جو ظاہر میں بہت وزنی معلوم ہوتا ہے اور شائد بعض لوگ اس