انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 354

انوار العلوم جلد ۲ ۳۵۴ حقيق النبوة (حصہ اول) میرے نام وی پی کر دیتے تاکہ مجھے اطلاع تو ہو جاتی ممکن تھا کہ میں اس وقت تک کہ یہ رسالہ تمام جماعت میں اشاعت پا جائے اس سے ناواقف ہی رہتا لیکن کل شام کو حسی فی اللہ مولوی غلام رسول صاحب ساکن راجیکی لاہور سے تشریف لائے اور ایک کاپی اس رسالہ کی اپنے ساتھ لیتے آئے جس سے مجھے اس کا علم ہوا۔ اور آج ۱۴ فروری کو دو پہر کے وقت یہ رسالہ پڑھنے کے بعد نماز ظہر سے فارغ ہو کر اس کا جواب میں نے لکھنا شروع کر دیا ہے تاکہ تاخیر سے لوگوں کو گھبراہٹ نہ ہو۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اور ہر ایک ذی علم انسان جس نے مولوی صاحب کے ٹریکٹ کو پڑھا ہے اس بات کا اعتراف کرے گا کہ آپ نے گو میرے رسالہ کے جواب دینے کی کوشش کی ہے لیکن در حقیقت ان اصول اور فروع کو نظر انداز کر دیا ہے جن پر میں نے اپنے رسالہ میں مسئلہ نبوت پر بحث کی تھی بلکہ بعض نئے پہلو نکال کر ان پر بحث شروع کر دی ہے جس سے امر متنازعہ فیہ کا فیصلہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہر ایک بات کے فیصلہ کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کسی اصل اور قاعدہ پر اس کا فیصلہ کیا جائے اور اگر خلط مبحث سے کام لیا جائے یعنی جس بات کا جواب نہ آیا۔ اس کو ترک کر کے دوسری طرف چلے جائیں تو اس سے کبھی بھی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ پس ہمیں بھی ہر ایک مسئلہ کا فیصلہ بعض اصول کی بناء پر کرنا چاہئے اب چونکہ مولوی صاحب موصوف نے بجائے میری باتوں کا جواب دینے کے بحث کو پھر از سر نو شروع کر دیا ہے۔ اس لئے میں مجبور ا ان کے بیان کردہ امور کے جواب دینے کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ مولوی صاحب کے مضمون کو پڑھ کر جس نتیجہ پر میں پہنچا ہوں (1) وہ یہ ہے کہ مولوی صاحب کا مذہب ہے کہ دعوئی مسیحیت کے بعد حضرت مسیح موعود کا خیال اپنی نبوت کے متعلق ایک ہی رہا ہے (۲) یہ کہ حضرت مسیح موعود کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ آپ نبی تھے بلکہ جزئی اور ناقص نبی تھے اور ان دونوں امور کی شہادت میں انہوں نے مختلف دلائل دیتے ہیں۔ چونکہ پہلے امر کے فیصلہ پر دوسرے امر کے فیصلہ کا ایک حد تک انحصار ہے اس لئے میں پہلے اس امر کو لیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے عقیدہ میں کسی تبدیلی کا ذکر کیا ہے یا نہیں؟ اور پہلے عقیدہ سے مراد کیا ہے اور دوسرے عقیدہ سے کیا مراد ہے؟۔ اس کے لئے میں حقیقۃ الوحی کی وہی عبارت پھر نقل کرتا ہوں۔ جو القول الفصل میں نقل کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ : سوال - (۱) تریاق القلوب کے صفحہ ۱۵۷ (روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۸۱) میں ( جو میری کتاب