انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 348

انوار العلوم جلد ۲ ۳۴۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) بی سے روایت ہے کہ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلوةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَّةِ في اثرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَا قَالَ رَبِّكُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنْ بِي وَ كَافِرُ فَا مَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنْ بِي بِي كَافِرُ كَافِرُ بِالْكَوْكَبِ وَامَّا مَنْ قَالَ قَالَ مُطِرْنَا بَنُوءٍ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرُ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ۔ (مسلم کتاب الايمان باب بيان كفر من قال مطرنا بالنوء ، یعنی رسول اللہ ا نے ہمیں صبح کی نماز حدیبیہ میں پڑھائی اور اس سے پہلے رات کے وقت بارش ہو چکی تھی ہیں جب آپ نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ گئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیا لوگ جانتے ہیں کہ ان کے رب نے کیا فرمایا انہوں نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ہمیں تو علم نہیں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے یوں فرمایا ہے کہ میرے بندوں نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ بعض مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور بعض کافر۔ پس جو شخص کہتا ہے کہ بارش خدا تعالی کے فضل اور رحمت سے ہوئی ہے وہ تو میرا مؤمن اور ستاروں کا کافر ہے اور جو شخص کہتا ہے کہ فلاں فلاں ستارہ کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے وہ ستاروں کا مؤمن اور میرا کافر ہے۔ اب اس حدیث کو لے کر اگر کوئی شخص یہ شور مچارے کہ دیکھو اس حدیث میں صریح الفاظ میں تمام ان لوگوں کو جو اللہ تعالی پر ایمان لاتے ہیں اور بارش کو اس کے فضل کا نتیجہ سمجھتے ہیں کافر قرار دے دیا گیا ہے تو اس کے اس قول پر سوائے اظہار افسوس اور تعجب کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس شخص کو جاننا چاہئے کہ یہاں کافر کے ساتھ ایک شرط بھی لگی ہوئی ہے اور فرمایا ہے کہ ایسا شخص ستاروں کے شریک باری ہونے کا کافر ہے اور ایسا کا فر برا نہیں بلکہ اچھا ہوتا ہے اور اس جگہ وہ اصطلاحی کا فر مراد نہیں جو قرآن کریم میں أُولَئِكَ هُمُ الْکٰفِرُونَ حقا (النساء: ۱۵۲) میں مذکور ہے کیونکہ ایسا کا فر صرف انکار ذات باری انکار یکی از ملائکہ انکار یکے از کتب سماویه انکار یکی از انبیاء یا انکار یوم آخر کی وجہ سے بنتا ہے پس گو لفظ کا فراس جگہ استعمال کیا گیا ہے لیکن اصطلاحی معنوں کے خلاف اور معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ان معنوں کے رو سے مؤمنون کا کافر ہونا برا نہیں بلکہ ایسا کافر ہوئے بغیر انسان مؤمن ہو ہی نہیں سکتا۔ آرا کیسے افسوس اور کیسے رنج کی بات ہے کہ مخالفت اور عداوت کی شدت کی وجہ سے کسی سوال کے جواب دینے سے پہلے اس پر غور تک نہیں کیا جاتا اور جواب دینے میں صرف اس بات کو مد نظر رکھا جاتا ہے کہ محمود کے کلام کا کوئی جواب ہونا چاہئے۔ میں صاف طور پر لکھتا ہوں کہ میں ان