انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 346

انوار العلوم جلد ۲ ۳۴۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) چیلنج دیا ہے کہ وہ میری کسی تحریر سے یہ ثابت کریں کہ میں نے مرزا صاحب کو حقیقی نبی یعنی شریعت نانے والا نبی کہا ہو اور اس میں اس اعلان کا بھی ذکر کیا ہے جس میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرزاعة کو چیلنج دیا ہے کہ وہ اپنے اس قول کو ثابت کریں کہ میں (یعنی مرزا محمود احمد) حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی یعنی شریعت لانے والا نبی خیال کرتا ہوں اور خواجہ صاحب سے درخواست کی ہے کہ وہی اب مرزا صاحب کو اس اعلان کے جواب پر آمادہ کریں اور صاف لکھا ہے کہ : حضرت مسیح موعود نے حقیقی نبی کے خود یہ معنی فرمائے ہیں کہ جو نئی شریعت لائے ۔ پس ان معنوں کے لحاظ سے ہم ان کو ہرگز حقیقی نبی نہیں مانتے " ( القول الفصل صفحہ ۱۳) اس تحریر کے باوجو د پھر جناب مولوی صاحب کا یہ لکھنا کہ ”میاں صاحب فی الواقع حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی مانتے ہیں " صفحہ ۱۹- دیانت اور امانت کے خلاف ہے ہر ایک وہ شخص جو معمولی سے معمولی سمجھ رکھتا ہو گا ان دونوں فقرات کو پڑھ کر اس حق طلبی کا پتہ لگا لے گا۔ جس سے میری مخالفت میں کام لیا جاتا ہے۔ میں تو کہہ رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے ”حقیقی نبی" کی جو اصطلاح مقرر فرمائی ہے اور اس کے جو معنی فرمائے ہیں ان کے رو سے میں آپ کو ہرگز حقیقی نبی نہیں مانتا کیونکہ جب خود حضرت مسیح موعود اپنے حقیقی نبی ہونے سے انکار کرتے ہیں تو میں کون ہوں کہ آپ کو حقیقی نبی قرار دوں۔ ہاں یہ میں نے ضرور لکھا ہے کہ اگر ان معنوں کے علاوہ حقیقی نبی کے کوئی اور معنی کئے جائیں تو وہ میرے سامنے پیش کئے جائیں تب میں ان کی نسبت رائے دے سکتا ہوں " حقیقی نبی" ایک اصطلاح ہے جو خود حضرت مسیح موعود نے قرار دی ہے اور اس کے خود ہی معنی بھی کر دیتے ہیں ان معنوں کے رو سے میں ہرگز آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔ ہاں چونکہ ہر ایک شخص کا حق ہے کہ ایک اصطلاح بنائے اس لئے میں نے لکھا تھا کہ اگر " حقیقی نبی" کے معنی ان معنوں کے سوا ہیں جو حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں تو میں ان کے معلوم ہونے پر رائے دے سکوں گا کہ وہ حضرت مسیح موعود پر چسپاں ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اور مثال کے طور پر میں نے لکھا تھا کہ اگر حقیقی نبی کے معنی یہ کئے جائیں کہ وہ بناوٹی یا نقلی نبی نہ ہو تو ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعود کو میں حقیقی نبی مانتا ہوں۔ اب اس عبارت کا جو کچھ مطلب ہے اس کے سمجھنے کے لئے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہر ایک وہ شخص جو اردو کی معمولی عبارت سمجھ سکتا ہے اس عبارت سے ہی سمجھے گا کہ ایک معنی پہلے فرض کئے گئے ہیں اور مثال کے طور پر ایک اصطلاح قرار دی گئی ہے اور پھر اس کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی قرار دیا گیا ہے نہ اس اصطلاح کے رو سے جو حضرت مسیح موعود نے مقرر فرمائی