انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 334

انوار العلوم جلد ؟ ۳۳۴ القول الفصل اس تحریر سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نبی اور محدث کو ہم معنی خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں محدث کا لفظ اس لئے بڑھایا۔ ال یہ لفظ استعارہ کے طور پر اس قطعہ سمندر پر اطلاق پاتا ہے جہاں سے موتی نکلتے ہیں۔ منہ مجھے یہ بھی خطرہ ہے کہ جو لوگ مسیح موعود کی نبوت کا درجہ گھٹانے کے لئے صحابہ اور پچھلے سب ولیوں کو نبی قرار دیتے ہیں۔ چند دن کے بعد اس بناء پر کہ مسیح موعود نے اپنی جماعت کو صحابہ سے تشبیہ دی ہے۔ اپنے میں سے بعض کو بھی نبی نہ کہنے لگ جائیں۔ منہ کاش مسیح موعود کی نبوت پر اعتراض کرنے والے آنحضرت ا کی عظمت اور شوکت پر غور کرتے تو انہیں یہ ٹھوکر نہ لکتی آنحضرت ا کو اللہ تعالٰی نے وہ رتبہ دیا ہے کہ آپ کی غلامی اور اتباع سے بارگاہ الہی میں مغرب ہونے والا انسان اگر یہ دعوئی بھی کرے کہ میں آپ کی اتباع سے اس درجہ تک پہنچ گیا ہوں کہ پہلے سب نبیوں سے افضل ہو گیا ہوں تب بھی جائے تعجب نہیں ۔ پھر بھی جائے تعجب نہیں اس بات میں کہ ایک شخص آپ کی اتباع سے نبی ہو گیا۔ اور باوجود نہی ہونے کے آپ کی غلامی سے آزاد نہ ہوا بلکہ جس قدر اس کا درجہ بڑھا اسی قدر آنحضرت ا کی محبت میں فنا ہو تا گیا۔ بعید از امکان ہونے کی کیا وجہ سہی کاش لوگ سمجھے کہ مسیح موعود کی نبوت کے انکار سے تو رسول کا انکار لازم آتا ہے کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ لو كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيِّينَ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعی یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو سوائے میری فرمانبرداری۔ ائے میری فرمانبرداری کے ان سے کچھ نہ بنتا۔ پس اگر آپ کی امت میں سے سے ایک ایسا شخص نہ ہو خص نہ ہو تا جس کو خداتعالی جرى الله في حلل الأنبياء فرما تالینی اللہ کا ہی انبیاء کے حلول میں تو آنحضرت کار عوئی (نعوذ باللہ من ذالک) ایک دعوی بلا دلیل بن جاتا اور کوئی کہہ سکتا تھا کہ (نعوذ باللہ من ذالک) رسول اللہ ا نے ایک بلا دلیل بات صرف فخر کے طور پر کہہ دی ہے لیکن اللہ تعالی رسول کریم کے لئے بڑا غیر تمند ہے۔ ایک شخص کو بہت سے نبیوں کے نام مخاطب کیا اور باقی نبیوں کے نام لینے کی بجائے فرمادیا جرى اللهِ فِي حُلل الانبیاء اور پھر اسے اس کام پر کھڑا کیا کہ آنحضرت کی عظمت کو ظاہر کرے اور آ و ظاہر کرے اور آپ کی غلامی کا اقرار کرے اور چونکہ اس شخص کو ۔ شخص کو سب نبیوں کے نام کے نام سے یاد کیا تھا۔ اس لئے اقراری غلامی سے ثابت ہوا کہ اگر اصل انبیاء ہوتے تو رہ بھی آنحضرت ا کے سامنے اقرار غلامی کرتے۔ اور اس طرح آپ کا یہ قول کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَ سَعَهُمَا إِلَّا اتباعی عملی رنگ میں پورا ہوا پس مسیح موعود کی نبوت سے انکار کرنے و انا در حقیقت آنحضرت اللہ کی بات کو باطل اور بے معنی قرار دینے والا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔ خوب یاد رکھو کہ مسیح موعود کے نبی اور پھر عظیم الشان نبی ہونے میں ہی آنحضرت ﷺ کے قول کی صداقت ہے پس ہم اس محبوب خدا کی تکذیب کسی طرح کر سکتے ہیں۔ مرزا محمود احمد على ه اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خود خواجہ صاحب کو تو کتب احادیث و سیر پر عبور نہیں ہے انہوں نے حکیم محمد حسین کے رسالہ احمد میں پیش کردہ روایات کی ہی بناء پر غالبا لکھ دیا ہے لیکن حکیم صاحب نے جو روایات لکھی ہیں وہ بھی انہوں نے اصل کتابوں سے نہیں بلکہ ادھر ادھر دیکھ کر لکھ دی ہیں اس لئے ٹھو کر کھائی ہے بات یہ ہے کہ دو تین روایات جو حکیم صاحب نے لکھی ہیں ان میں سے پہلی دونوں واقدی کی ہیں جس نے ہزاروں جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں اور حدیثیں بنانے میں اس کا پایہ اعلی درجہ کے کذابوں میں ہے تیری روایت کا ایک رادی ابو غزیہ محمد بن موٹی ہے جس کی نسبت امام بخاری کانتوئی ہے کہ اس کی بیان کردہ حدیثوں میں بہت سی غیر ثابت ہیں۔ ابن حیان کہتے ہیں یہ حدیثوں کا چور ہے جھوٹی حدیثیں لے کر ثقہ راویوں کا نام ان کے ساتھ لگا دیتا ہے اور ابو حاتم کہتے ہیں ضعیف ہے یہ تو آئمہ حدیث کی رائے ہے ابو غزیہ کی نسبت ما نسبت مگراسی پر بس نہیں ۔ نہیں۔ اس حدیث کا ایک راوی سعید بن زیبا ما سعید بن زید ہے جس کی نسبت آئمہ حدیث یحیی بن سعید سعدی اور نسائی وغیرہ کا فیصلہ ہے کہ وہ ضعیف ہے اس کی حدیث حجت نہیں ہو سکتی۔ پس امام الوضامین اور سارق الاحادیث کی روایات سے صحیح روایات کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے چنانچہ بیہقی ابن عساکر کی روایت الخصائص الکبری میں درج ہے کہ عبد المطلب نے آپ کا نام محمد رکھا اسی طرح حاکم نے روایت کیا ہے کہ آپ کی والدہ کو رویا میں آپ کا نام محمد رکھنے کا حکم ہوا اور بیہقی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور اس کی تائید میں ابن ہشام وغیرہ مورخین کی تحقیقات ہے پس صحیح احادیث اور تحقیقات مورخین کے مقابلہ میں وضاعین کی روایات کی کوئی قدر نہیں ہو سکتی۔ واقدی کی نسبت تو آئمہ حدیث لکھتے ہیں کہ جب روایت کے مقابلہ میں صحیح حدیث نہ بھی ہو تب بھی اس کی روایت قابل سند نہیں ابو طالب کے جس قصیدہ میں لفظ احمد آیا ہے اس کی نسبت خود جس مورخ نے لکھا ہے ساتھ ہی لکھ دیا ہے کہ اس قصیدہ کے اکثر اشعار کی نسبت اہل علم کا فیصلہ ہے کہ درست نہیں ہیں۔ (مرزا محمود احمد) امہ مفصل دیکھو ر سالہ تنشهید اپریل ۶۱۹۱۰