انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 16

انوار العلوم جلد ۲ 14 کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور بعض تو ایسے جوش میں تھے کہ طعنہ دیتے تھے اور بیعت کو لغو قرار دیتے تھے تو کیا اس کا یہ نتیجہ سمجھنا چاہئے کہ نعوذ باللہ حضرت ابو بکر کو خلافت کی خواہش تھی کہ صرف تین آدمیوں کی بیعت پر آپ بیعت لینے کیلئے تیار ہو گئے اور باوجود سخت مخالفت کے بیعت لیتے رہے یا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ آپ کی خلافت نا جائز تھی مگر جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ پس جبکہ ایک شخص کی دو ہزار آدمی بیعت کرتے ہیں اور صرف چند آدمی بیعت سے الگ رہتے ہیں تو کون ہے جو کہہ سکے کہ وہ خلافت نا جائز ہے۔ اگر اس کی خلافت نا جائز ہے تو ابو بکر، عثمان و علی اور نور الدین رضوان الله عنهم کی خلافت اس سے بڑھ کرنا جائز ہے۔ پس خدا کا خوف کرو اور اپنے منہ سے وہ باتیں نہ نکالو جو کل تمہارے لئے مصیبت کا باعث ہوں۔ اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرو اور وہ سلسلہ جو اس کے مامور نے سالہا سال کی مشقت اور محنت سے تیار کیا تھا اسے یوں اپنے بغضوں اور کینوں پر قربان نہ کرو۔ مجھ پر اگر اعتراض ہوتے ہیں کیا ہوا مجھے وہ شخص دکھاؤ جس کو خدا نے اس منصب پر کھڑا کیا جس پر مجھے کیا اور اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا ہو جبکہ آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا تو میں کون ہوں جو اعتراضوں سے محفوظ رہوں فرشتوں نے بھی اپنی خدمات کا دعوی کیا تھا اور ابلیس نے بھی اپنی بڑائی کا دعویٰ کیا تھا مگر بے خدمت آدم جو ان کے مقابلہ میں اپنی کوئی بڑائی اور خدمت نہیں پیش کر سکتا تھا خدا کو وہی پسند آیا اور آخر سب کو اس کے سامنے جھکنا پڑا۔ پس اگر آدم کے مقابلہ میں فرشتوں نے اپنی خدمات کا دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے بڑی بڑی خدمات کی ہیں وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (البقره: ۳۱) آج بھی وہی دعوٹی نہ پیش کیا جاتا۔ مگر فرشتہ خصلت ہے وہ انسان جو ٹھو کر کھا کر سنبھلتا ہے اور خدا تعالٰی اس شخص پر رحم کرے جو تکبر کی وجہ سے آخر تک اطاعت سے سر گردان رہے ۔ پس اے میرے دوستو! تم فرشتہ بنوا اور اگر تم کو ٹھوکر لگی بھی ہے تو تو بہ کرو کہ تا خدا تمہیں ملائکہ میں جگہ دے ۔ ورنہ یاد رکھو کہ فتنہ کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ کیا تمہیں مسیح موعود کی پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں۔ اگر نہیں تو تم احمدی کس بات کے ہو ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود نے سبز اشتہار میں ایک بیٹے کی پیشگوئی کی تھی کہ اس کا ایک نام محمود ہو گا۔ دوسرا نام فضل عمر ہو گا۔ اور تریاق القلوب میں آپ نے اس پیشگوئی کو مجھ پر چسپاں بھی کیا ہے پس مجھے بتاؤ کہ عمر کون تھا۔ اگر تمہیں علم نہیں تو سنو کہ وہ دو سرا خلیفہ تھا۔ پس میری پیدائش سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کر چھوڑا تھا کہ میرے سپردوہ کام کیا جائے جو حضرت عمرؓ کے سپرد ہوا تھا۔ پس اگر مرزا غلام احمد خدا کی طرف سے تھا تو تمہیں اس شخص کے ماننے میں کیا