انوارالعلوم (جلد 2) — Page 14
انوار العلوم جلد ۲ ۱۴ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے۔ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ ایک زمانہ میں خلافت پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ اس سے شرک کا اندیشہ ہے اور غیر مامور کی اطاعت جائز نہیں پس خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں ہی اس کا جواب دے دیا کہ خلافت شرک پھیلانے والی نہیں بلکہ اسے مٹانے والی ہوگی اور خلیفہ مشرک نہیں بلکہ موحد ہوں گے ورنہ آیت استخلاف میں شرک کے ذکر کا اور کوئی موقعہ نہ تھا۔ غرض کہ خلافت کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا خصوصا وہ قوم جو اپنے عمل سے چھ سال تک مسئلہ خلافت کے معنی کر چکی ہو اس کا ہر گز حق نہیں کہ اب خلافت کی تحقیقات شروع کرے اور اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو سمجھا جائے گا کہ خلیفہ اول کی بیعت بھی اس نے نفاق سے کی تھی کیونکہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ خلفائے سلسلہ اول سے مشابہت دیتا تھا اور خلیفہ کی حیثیت میں بیعت لیا کرتا تھا اور اس کے وعظوں اور لیکچروں میں اس امر کو ایسا واضح کر دیا گیا تھا کہ کوئی راستباز انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ اور اب اس کی وفات کے بعد کسی کا حق نہیں کہ جماعت میں فساد ڈلوائے ۔ مجھے اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں تفرقہ کے آثار ہیں اور بعض لوگ خلافت کے خلاف لوگوں کو جوش دلا رہے ہیں یا کم سے کم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلیفہ ایک پریزیڈنٹ کی حیثیت میں ہو اور یہ کہ ابھی تک جماعت کا کوئی خلیفہ نہیں ہوا۔ مگر میں اس اعلان کے ذریعہ سے تمام جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ خلیفہ کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں اور اس کی بیعت کی بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح حضرت خلیفہ اول کی تھی اور یہ بات بھی غلط مشہور کی جاتی ہے کہ جماعت کا اس وقت تک کوئی خلیفہ مقرر نہیں ہوا بلکہ خدا نے جسے خلیفہ بنانا تھا بنا دیا اور اب جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے۔ میں نے کسی سے درخواست نہیں کی کہ وہ میری بیعت کرے نہ کسی سے کہا کہ وہ میرے خلیفہ بننے کے لئے کوشش کرے اگر کوئی شخص ایسا ہے تو وہ علی الاعلان شہادت دے کیونکہ اس کا فرض ہے کہ جماعت کو دھوکے سے بچائے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ خدا کی لعنت کے نیچے ہے اور جماعت کی تباہی کا عذاب اس کی گردن پر ہو گا۔ اے پاک نفس انسانو! جن میں بدظنی کا مادہ نہیں میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی انسان سے خلافت کی تمنا نہیں کی اور یہی نہیں بلکہ خدا تعالی سے بھی کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ مجھے خلیفہ بنادے یہ اس کا اپنا فعل ہے یہ میری