انوارالعلوم (جلد 2) — Page 307
انوار العلوم جلد ۲ ۳۰۷ القول الفصل میں خلیفہ المسیح ہوں اور خدا نے مجھے بنایا ہے ۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ روا پہنادی ہے۔۔۔۔ اس نے آپ نہ تم میں سے کسی نے مجھے خلافت کا کرتہ پہنا دیا ۔۔۔۔۔ معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں ایک وہ خلیفہ ہوتا ہے جو لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الارض میں موجود ہے ۔۔۔۔ تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میں تم سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا مجھے یہ لفظ بھی دکھ دیتا ہے جو کسی نے کہا کہ پارلیمنٹوں کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔۔ میں کہتا ہوں وہ بھی توبہ کرلے جو اس سلسلہ کو پارلیمنٹ اور دستوری سمجھتا ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے وہ لفظ خوب یاد ہیں کہ ایران میں پارلیمینٹ ہو گئی اور دستوری کا زمانہ ہے انہوں نے اس قسم کے الفاظ بول کر جھوٹ بولا بے ادبی کی ۔۔۔۔۔ میں پھر کہتا ہوں وہ اب بھی توبہ کر لیں ۔۔۔۔۔ اور حضرت مسیح موعود اور مہدی بھی آچکے جس کا خدانے اپنے فضل سے مجھ کو خلیفہ بنایا "۔ خواجہ صاحب بتائیں کہ اگر آپ یا آپ کے دوست دوست نہ تھے تو اور کون لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا ہی بنایا ہوا خلیفہ ہے ہم اسے معزول کر دیں گے اور وہ کون لوگ تھے جو کہتے تھے کہ یہ زمانہ ہی پارلیمنٹوں کا ہے ایک حاکم کا نہیں دیکھو ایران میں بھی دستوریت ہو گئی ہے اس لئے انجمن ہی اصل حاکم ہونی چاہئے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کی وفات پر جو پہلا جلسہ ہوا۔ اس میں جو تقریر آپ نے فرمائی اس کے بعض فقرات یہ ہیں۔ اب ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ تم ملم نہیں۔ تمہاری کیا ضرور ضرورت ہے۔ کیا حضرت صاحب ہمارے لئے کم ہدایت چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی اسی (۸۰) کے قریب کتا بیں موجود ہیں۔ وہ ہمارے لئے کافی ہیں یہ سوال بد بخت لوگوں کا ہے جو خداتعالی کی سنت کا علم نہیں رکھتے۔ اس قسم کے سوال سے تمام انبیاء کا سلسلہ باطل ہو جاتا ہے چنانچہ کہہ سکتے ہیں کہ عَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا جب خدا نے سب کچھ آدم کو بتا دیا تو اب نوح اور ابراہیم کیا لائے جو ماننا ضروری ہے ؟ محلها تو ان کے حق میں آ ؟ چکا ہے۔ پھر آدم کے لئے سب ملائکہ نے سجدہ کیا پس اب ان دوسرے انبیاء کی کیا ضرورت ہے پھر دم نقد واقعہ موجود ہے رسول الله الجامع جمیع کمالات جن کی نسبت میرا اعتقاد ہے خاتم الرسل خاتم الحكام خاتم النبین خاتم الاولیاء خاتم الانسان ہیں اب ان کے بعد اگر کوئی ابو بکر کو نہیں مانتا تو فرمایا وَ مَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (النور:۵۶) یعنی جو انکار کرے گاوہ خدا کی اطاعت سے باہر نکلنے والا ہے ۔۔۔"