انوارالعلوم (جلد 2) — Page 301
انوار العلوم جلد ۲ ٣٠١ القول الفصل اس فتوے سے ہمیں اصل غرض حرمت نماز کی معلوم ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ خدا تعالی کا حکم ہے کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ اور یہ وجہ وہ ہے جو نہ ہند سے خاص ہے اور نہ عرب سے نہ انگلستان سے خدا تعالیٰ کے حرام کو کوئی ۔ حرام کو کوئی حلال نہیں کر سکتا۔ اور اس کے سکتا۔ اور اس کے منع کئے ہوئے کو کوئی جائز نہیں کر سکتا۔ پس اصل وجہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام کرنے کی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو ایک ہی مالک اور خالق ہے اس تمام جماعت کو جسے حضرت مسیح موعود کے دعاوی اور آپ کے الہاموں پر ایمان ہے حکم دیا ہے کہ وہ کبھی کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ اور اس اعلان کے بعد حضرت مسیح موعود نے ہر ایک اس شخص کو جس نے غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی اجازت نہیں دی۔ خواہ وہ کسی بہانہ سے ہی اجازت طلب کرتا رہا ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل جن چیزوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ ان کے متعلق بھی اس وقت تک کوئی قطعی فتوی نہیں دیتے ۔ جب تک ان کو خدا تعالی کی طرف سے کوئی حکم نہ ہو جائے۔ آنحضرت ا مسلمانوں کو متعہ سے روکتے تھے۔ پھر بعض حالات کے ماتحت اسے جائز بھی کر دیتے کیونکہ اس حرمت کا باعث خدا تعالیٰ کا حکم نہ تھا۔ بلکہ آپ کا اپنا اجتہاد تھا۔ ا آپ جب منع فرماتے ہوں گے تب بھی کسی وجہ سے منع فرماتے ہوں گے مگر چونکہ حکم نہ تھا۔ جب دیکھتے کہ لوگ اس امر کے محتاج ہیں کہ انہیں متعہ کی اجازت دی جائے۔ آپ اجازت دے دیتے۔ چنانچه شیعه آج تک ان اجازتوں پر مصر ہیں۔ لیکن ایک وہ وقت آیا کہ آپ نے فرمایا کہ اعلان کر دو کہ خدا تعالی اور اس کا رسول اس کام کو حرام کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد متعہ جائز نہ ہوا۔ اسی طرح نماز کو ابتداء میں حضرت مسیح موعود نے بعض عقلی دلائل کی بناء پر اور بعض نقائص کی بناء پر چھڑوایا ۔ اور ترک کرایا اور ان میں فتوی کفر بھی تھا۔ اور مساجد کا فساد بھی تھا۔ چنانچہ اول الذکر دلیل خود حضرت مسیح موعود دیتے رہے ہیں۔ اور دوسری دلیل حضرت خلیفه اول بیان فرمایا کرتے تھے۔ لیکن یہ دونوں اصل حرمت کے باعث نہیں ہو سکتے تھے ۔ بلکہ یہ وقتی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے غیروں کی مساجد میں جانا یا کافر کہنے والوں کے پیچھے نماز منع کر دی گئی۔ اس کے بعد خدا تعالی کا حکم آیا۔ جس پر نماز غیروں کے پیچھے حرام کی گئی۔ اور اب صرف منع نہ تھی بلکہ حرام تھی۔ اور حقیقی حرمت صرف خدا تعالی کی طرف سے ہوئی ہے۔ پس غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکنے والا اصل باعث خدا تعالی کا حکم ہے۔ گو ابتداء نمازوں میں غیروں کو امام بنانایا ان کی مساجد میں جانا ترک کرنا ایک حد تک مسئلہ کفر یا مساجد کے فساد ہی کے باعث تھا مگر پھر خداتعالی کے حکم نے