انوارالعلوم (جلد 2) — Page 297
انوار العلوم جلد ۲ ۲۹۷ القول الفصل جبکہ ان کے بیانات پر الہی شہادت کی مہر صداقت بھی ہو اور وہ اس طرح کہ جس دن خواجہ صاحب کی لاہور میں تقریر تھی اس دن ان کا ایک تار آیا کہ وہاں ایک شخص احمدی مسلمان ہو گیا ہے اگر وہ اس طریق پر عمل کرتے جس پر آپ عمل کرتے تھے تو ان کے ہاتھ سے احمدی مسلمان کیونکر ہوا کیوں نہ آپ کے ہاتھ پر کوئی انگریز احمدی ہوا۔ خواجہ صاحب غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق جس اختلاف کا ذکر فرماتے ہیں مجھے اس پر بھی تعجب ہے کیونکہ اس مسئلہ میں خواجہ صاحب نے حضرت مسیح موعود کے فتوی کی طرف اشارہ تک بھی نہیں کیا اور آپ کی تحریر سے بالکل ظاہر نہیں ہو تا کہ آیا حضرت مسیح موعود نے اس مسئلہ پر کچھ فرمایا بھی ہے یا نہیں مؤمن انسان کا کام ہے کہ وہ اپنے اصول سے نہ پھرے۔ خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں بار بار اس امر پر زور دیا ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نے کیا فرمایا ہے چنانچہ مسئلہ خلافت پر زیادہ زور اسی بات پر دیا ہے لیکن نماز کے متعلق اس بات کو نظر انداز کر گئے ہیں کہ آپ نے غیر ممالک میں غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے کی نسبت کیا فتوئی دیا ہے مگر مجھے امید ہے کہ جب خواجہ صاحب کو وہ فتوی معلوم ہو جائے گا تو وہ اپنے خیالات میں اصلاح کرلیں گے ان فتووں میں سے ایک تو وہ فتوی ہے جو عجب خاں صاحب کے سوال پر حضرت مسیح موعود نے دیا تھا اور عجب خاں صاحب اس وقت مخالفین خلافت کے ایک اعلیٰ رکن ہیں اور خواجہ صاحب کے واقف ہیں ان سے دریافت کریں کہ مسیح موعود نے کیا فتویٰ دیا تھا مگر چونکہ وہ فتوئی شائع ہو چکا ہے اس لئے میں اسے ذیل میں درج کر دیتا ہوں۔ (مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء) جناب خان عجب خان صاحب آف زیدہ کے استفسار پر کہ بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جو اس سلسلہ سے اجنبی اور نا واقف ہوتے ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں یا نہیں فرمایا اول تو کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں لوگ واقف نہ ہوں۔ اور جہاں ایسی صورت ہو کہ لوگ ہم سے اجنبی اور نا واقف ہوں تو ان کے سامنے اپنے سلسلہ کو پیش کر کے دیکھ لیا۔ اگر تصدیق کریں تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو ورنہ ہرگز نہیں اکیلے پڑھ لو۔ خدا تعالٰی اس وقت چاہتا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے۔ پھر جان بوجھ کر ان لوگوں میں گھستا جن سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے منشاء الہی کے مخالف ہے “ (الحکم جلدے نمبر صفحہ ۱۳ بابت ۷ ۔ فروری ۱۹۰۳ء) اسی طرح سید عبد اللہ صاحب عرب جب اپنے وطن کو چلے تو آپ نے اس مسئلہ کے متعلق جو دریافت کیا اور جو جواب ملاوہ بھی ذیل میں درج ہے۔