انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 292

انوار العلوم جلد ۲ ۲۹۲ القول الفصل ہاں آنحضرت ا کی طرف بھی یہ پیشگوئی بوجہ آقا اور استاد ہونے کے اشارہ کرتی ہے۔ خواجہ صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر حضرت مرزا صاحب احمد تھے تو پھر احمد رسول کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے مگر خواجہ صاحب نے اتنا نہیں سوچا کہ آپ بھی تو آنحضرت ﷺ کو احمد مانتے ہیں۔ اور آپ کا یقین ہے کہ ان کا نام احمد تھا۔ پھر کیا آپ کلمہ شہادت لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَحْمَدُ رَسُولُ اللَّهِ پڑھا کرتے ہیں ؟ اگر باوجود اس کے کہ آنحضرت ﷺ کا نام کلمہ شہادت میں داخل ہے آپ محمد رسول اللہ کی بجائے احمد رسول اللہ نہیں کہتے تو ہمیں کس طرح مجبور کر سکتے ہیں کہ ہم احمد رسولی اللہ کا کلمہ پڑھیں اور مسیح موعود کو مراد لیں۔ اگر یہ کلمہ پڑھنا ضروری تھا تو پہلا فرض آپ کا تھا کہ آپ پڑھتے کیونکہ ہمارے لئے تو ابھی بہت سے مراحل طے کرنے باقی تھے۔ اول یہ کہ ہر نبی کے نام کا کلمہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں دوم یہ کہ جب شریعت آنحضرت ا کی ہے تو پھر کسی اور نبی کا کلمہ پڑھا جا سکتا ہے یا نہیں لیکن آپ کے لئے تو کچھ مشکل نہیں نبی کریم ﷺ کا نام کلمہ شہادت میں پڑھنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور آپ کا نام آپ احمد مانتے بھی ہیں پھر کیوں آپ محمد رسول اللہ کی جگہ احمد رسول اللہ کہنا نہیں شروع کر دیتے پس یہ اعتراض تو آپ پر : آپ پر پڑتا ہے نہ مجھ پر پھر آپ وہ الفاظ تو قرآن کریم سے بتائیں کہ اس مبشر کا کلمہ بھی پڑھنا چاہئے ۔ اسعَةَ أَحْمَدُ والی آیت میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ اس کا کلمہ پڑھا جائے تاکہ اگر ہم مرزا صاحب کو احمد نبی مائیں تو اس سے کلمہ پڑھنا بھی ہم پر فرض ہو جائے اس آیت میں کوئی ایسے الفاظ ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ یہ احمد شریعت والا نبی ہو گا کہ ہمیں کہا جائے کہ ہم ایک نئی شریعت لائیں قرآن کریم کے الفاظ صاف ہیں۔ ان سے باہر جانے کا کسی کو حق نہیں اور اگر ہر رسول کا کلمہ پڑھنا ضروری ہوتا ہے تو چاہئے کہ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ مُوسَى رَسُولُ اللَّهِ عِيسَى رَسُولُ اللَّهِ وَغَيْرُهُمْ مِّنَ الانبیاء کے نام کو بھی کلمہ شہادت میں شامل کیا جائے خواجہ صاحب یہاں گنجائش نہیں ورنہ میں آپ کو بتا تاکہ کلمہ شہادت میں صرف محمد رسول اللہ ا کے نام کے پڑھنے کی جھنے کی اجازت ہے اور کسی نبی کو یہ رتبہ نہیں دیا گیا خواہ نیا ہو یا پرانا یہ ایک خاص فضل ہے جس میں سوائے آپ کے اور کوئی شریک نہیں اور اگر یہ نہ بھی ہو تا تب بھی آپ کا نام ہم تب ترک کرتے اگر نعوذ باللہ آپ کی شریعت منسوخ قرار دیتے۔ خواجہ صاحب نے لکھا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا تسمہ کھولنے کے قابل بھی صحابہ نہ تھے ایسے کلمات منہ سے نکالنے والے کو میں جاہل سمجھتا ہوں بشرطیکہ خواجہ