انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 290

انوار العلوم جلد ۲ ۲۹۰ القول الفصل نام پر ہی بیعت لیا کرتے تھے۔ اور خدا نے بھی آپ کا نام احمد رکھا اور آپ نے اپنے نام کا یہی حصہ اپنی اولاد کے ناموں کے ساتھ ملایا۔ اس لئے سب باتوں پر غور کرتے ہوئے وہ شخص جس کی نسبت خبر دی گئی تھی۔ تھی مسیح موعود ہی ہے۔ ہاں اس لحاظ سے کہ آپ کے کل کمالات آنحضرت ا سے لئے ہوئے تھے۔ اولین مصداق آنحضرت ﷺ کو قرار دینا ضروری ہے۔ مگر اس لئے کہ آپ صفت احمدیت کے سب سے بڑے مظہر تھے نہ اس لئے کہ آپ کا نام احمد تھا۔ کیونکہ آپ کا نام در حقیقت احمد نہ تھا۔ اور ہم جھوٹ نہیں بول سکتے ۔ بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں احمد ہوں اور ماحی ہوں اور عاقب ہوں اور ماحی اور عاقب آپ کے نام نہیں بلکہ صفات ہیں اسی طرح احمد بھی آپ کی صفت ہے۔ نام نہیں۔ قرآن کریم میں اور احادیث میں آپ کا ذکر جہاں کہیں ہے۔ اسم محمد ال سے آپ کو یاد کیا گیا ہے کلمہ شہادت میں بھی اسم محمد ہی داخل ہے۔ آپ کی والدہ نے ہرگز آپ کا نام احمد نہیں رکھا۔ یہ بات کسی کی بنائی ہوتی ہے۔ اور آر ہے۔ اور آپ کو چونکہ تاریخ اسلام سے ایسی واقفیت نہیں۔ اس لئے آپ نے اس کو صحیح تسلیم کر لیا ۔ آپ کی والدہ کو رویا میں محمد نام بتایا گیا تھا۔ جو صحیح روایات سے ثابت ہے۔ پس آپ کی بات قابل پذیرائی نہیں۔ ابو طالب نے کوئی ایسے شعر نہیں کیے۔ جن میں آپ کا نام احمد ہو ۔ ابو طالب کے اشعار انہی لوگوں ۔ بنائے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے حضرت علی کا دیوان اور ابن عباس کی تفسیر لکھی ہے۔ آپ کسی مؤرخ سے دریافت کریں کہ آیا یہ روایات درست بھی ہیں یا نہیں۔ بخاری اصح الکتب ہے۔ اس کی حدیث پر بھی جرح ہوتی ہے۔ پھر عام روایات کیونکر بلا تحقیق مان لی جا سکتی ہیں۔ ہمارے مفسرین جو اکثر اوقات غلط و صحیح روایات میں فرق نہیں کرتے بلکہ جو قول ان کی تائید میں مل جائے نقل کر دیتے ہیں۔ ان کی کتب کو اگر آپ دیکھیں تو اعلیٰ درجہ کی تفاسیر اس مضمون سے خالی ہیں۔ یا تو یہ لکھ دیا ہے کہ یہ صفت احمدیت کی پیشگوئی تھی جیسا کہ رسول الله فرماتے ہیں - أَنَا مُحَمَّدُو أَنَا أَحْمَدُ وَ أَنَا مَا جِي وَأَنَا عَاقِب او رای طرح أَنَا نَبِيُّ الرَّحْمَةِ وَالتَّوْبَةِ وَالْمُلْحَمَةِ اوريا یہ لکھ دیا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ آسمان پر آپ کا نام احمد تھا۔ اور چونکہ حضرت مسیح نبی تھے۔ انہوں نے آسمانی نام کے مطابق پیشگوئی کی تھی۔ پس آپ ان حوالہ جات کی مزید تحقیقات فرمائیں۔ تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ کیسی کچی اور نا قابل اعتبار روایات ہیں۔ جو صرف عیسائیوں کے اس اعتراض سے بچنے کے لئے وضع کر لی گئی تھیں۔ کہ تم تو احمد کی پیشگوئی انجیل میں کہتے ہو۔ مگر تمہارے نبی کا نام تو احمد نہیں۔ اگر آنحضرت ا اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرماتے تو بھی کے