انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 283

A انوار العلوم جلد ۲ ۲۸۳ القول الفصل گا۔ پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟ میرا اس میں کیا قصور ہے؟ اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالی کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عبار تیں خدا تعالی کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالی میری نسبت کیا فرماتا ہے " (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۲ تا ۱۵۴) اس حوالہ کو پڑھ کر ہر ایک شخص تین باتیں معلوم کر سکتا ہے ۔ (1) اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود اس تناقض کو جو آپ کی دو تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ اس تناقض سے مشابہ قرار دیتے ہیں جو مسئلہ حیات و وفات مسیح کے متعلق آپ کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ نے براہین احمد یہ میں لکھا تھا کہ مسیح ناصری ہی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ اور بعد میں لکھا کہ وہ فوت ہو چکا ہے اور میں ہی وہ مسیح ہوں جس کی خبر دی گئی تھی اور اس تناقض کی وجہ یہ تھی کہ پہلے آپ کا وہی اعتقاد تھا جو اس وقت کے مسلمانوں میں رائج ہے مگر بعد میں اللہ تعالی کی وحی سے آپ کو یہ عقیدہ بدلنا پڑا۔ پس اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ نبوت کے متعلق بھی آپ کے خیال میں تغیر ہوا ہے اور پہلے آپ کا اپنے نبی ہونے کے متعلق اور کسی نبی پر اپنی فضیلت کے متعلق اور مذہب تھا۔ (۲) بعد میں خدا تعالی کی وحی نے اس کو بدلا دیا۔ اور آپ پر روشن ہو گیا کہ آپ حضرت مسیح سے ہر را میں افضل ہیں اور یہ کہ آپ نبی ہیں۔ ہاں ایسے نبی نہیں کہ پہلے کسی نبی کے متبع نہ ہوں بلکہ ایسے نبی ہیں کہ آنحضرت ا کی امت میں ہو کر پھر نبی ہیں۔ رنگ اس حوالہ پر بعض لوگ یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے جو یہاں لکھا ہے کہ اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا۔ اس اوائل سے مراد دعوی مسیحیت سے پہلے کا زمانہ ہے اور اس تحریر سے آپ نے صرف اپنے اس عقیدہ کو غلط قرار دیا ہے جو دعوئی مسیحیت سے پہلا تھا ورنہ دعوی مسیحیت کے بعد آپ جو کچھ کہتے رہے اسے غلط قرار نہیں دیا۔ اس لئے وہ تمام تحریر میں جو دعوی مسیحیت کے بعد مسئلہ نبوت پر آپ نے تحریر فرمائیں ان سے اس مسئلہ پر استدلال کیا جا سکتا ہے اور بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کی تقریر میں جو انہوں نے ایام