انوارالعلوم (جلد 2) — Page 281
انوار العلوم جلد ۲ ۲۸۱ القول الفصل ولیوں کے اور بزرگوں کو شامل کر لیتا ہے جن کو خدا تعالیٰ نے نبی نہیں کہا) ایجاد کر کے اسے مسیح موعود کی طرف منسوب کرتا ہے وہ ایک طرف تو مسیح موعود کے درجہ کو کم کرتا ہے۔ اور دوسری طرف آنحضرت ا پر بھی حملہ کرتا ہے۔ میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسئلہ نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعود پر دو زمانے گزرے ہیں ایک تو وہ زمانہ تھا کہ آپ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحی میں نبی کہا جاتا تو آپ اس پرانے عقیدہ کی بناء پر جو اس وقت کے مسلمانوں میں پھیلا ہوا تھا اپنے آپ کو نبی قرار دینے کی بجائے ان الہامات کے یہ معنی کر لیتے تھے کہ نبی سے مراد صرف ایک جزوی نبوت ہے۔ اور بعض دوسرے انبیاء پر جو مجھے فضیلت دی گئی ہے وہ بھی ایک جزوی فضیلت ہے اور جزوی فضیلت ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ ہر امر میں کسی نبی پر اپنے آپ کو افضل سمجھ لیتے تو اس سے یہ بھی لازم آتا کہ آپ نبی ہیں کیونکہ یہ ممکن نہ تھا کہ آپ ایک نبی سے کمالات میں بڑھ جاتے لیکن پھر بھی نہیں نہ بنتے۔ پس آپ عام مشہور عقیدہ کے اریت اپنی نبوت جزوی نبوت اور اپنی فضیلت جزوی فضیلت قرار دیتے رہے۔ لیکن بعد میں اللہ تعالٰی کی اتروحی نے آپ کو اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور آپ نے اپنے پہلے عقیدہ کو ترک کر دیا ۔ چنانچہ آپ پر جب کسی شخص نے یہ اعتراض کیا کہ آپ پہلے تو لکھتے تھے کہ میں نبی نہیں اور مسیح نبی ہے اس لئے مجھے اس پر صرف جزوی فضلیت ہے اب اس کے خلاف کیوں س کے خلاف کیوں لکھتے ہیں تو آپ نے اس کا جو جواب دیا۔ اسے میں ذیل میں درج کر دیتا ہوں بلکہ معترض کا اعتراض بھی درج کر دیتا ہوں تاکہ اس جواب کے سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو۔ متواتر تریاق القلوب کے صفحہ ۳۵۳ میں (جو میری کتاب ہے) لکھا ہے اس جگہ کسی کو یہ سوال نمبر (1) وہم نہ گزرے کر میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی عه ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔ پھر ریویو جلد اول نمبر ہ صفحہ ۲۶۱ میں مذکور ہے ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے پھر ریویو صفحہ ۴۷۸ میں لکھا ہے ” مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہر گز نہ کر سکتا۔ اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہر گز دکھلا نہ سکتا خلاصہ اعتراض یہ کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ ه روحانی ختر ائن جلد ۱۵ صفحه ۴۸۱ : عه جلد نمبر ۱۲