انوارالعلوم (جلد 2) — Page 272
انوار العلوم جلد ۲ ۲۷۲ القول الفصل ان کا نام نبی نہ رکھا جائے۔ اور یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے تا ختم نبوت پر یہ نشان ہو۔ پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ہو جائے (تذکرۃ الشہادتین صفحه ۴۵ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۵) امت محمدیہ میں اب اب تک کوئی انسان خواہ اس نے کتنا ہی بڑا درجہ کیوں نہ پایا ہو ، رجہ کیوں نہ پایا ہو خواہ وہ صحابہ میں سے ہو یا غیر صحابہ میں سے۔ نبی نہیں کہلا سکتا۔ سوائے حضرت مسیح موعود کے۔ کہ صرف ان کو خدا تعالٰی نے اس عہدہ پر مامور کیا ہے اور آنحضرت ا کی امت میں سے کوئی شخص اب تک اس انعام میں ان کا شریک نہیں ہوا۔ اس تحریر کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ امت محمدیہ میں سے وہ کون سا انسان ہے جس کی نسبت پہلے انبیاء نے خبریں دی ہیں وہ کون سا انسان ہے جس کی بعثت کی نسبت مسیح ناصری سا اولو العزم نبی کہتا ہے کہ وہ میری ہی بعثت ہوگی۔ جس کا نام خود آنحضرت ا نے نبی رکھا۔ حالانکہ جس قدر اولیاء اب تک گزرے ہیں۔ ان میں سے کسی کا نام بھی نبی نہیں رکھا وہ کون سا انسان ہے جس کو خدا تعالیٰ نے بار بار الہامات میں نبی اور رسول کہا اور جس نے اس نام کو دنیا میں پیش کر کے اعلان کیا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ ہاں میری نبوت آنحضرت ا کے فیضان سے ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ایسا انسان صرف مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام ہیں۔ اور اس امت میں اب تک ایک انسان بھی ایسا نہیں گذرا جس میں یہ صفات جمع ہوں۔ خواجہ صاحب اپنے اس مضمون میں ایک طرف تو یہ تحریر فرماتے ہیں کہ غیر معتبر باتوں پر اعتبار نہیں ہونا چاہئے۔ غیر ذمہ دار لوگوں کی باتوں کو روکنا چاہئے ۔ آرام سے فیصلہ کرنا چاہئے۔ لیکن اسی رسالہ میں خود وہی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ جن سے لوگوں کو ہوشیار کرتے تھے اور خیالی اور سنی سنائی باتوں پر بہت زور دیا ہے گو کہیں کہیں ڈر کر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ میں نے یہ باتیں سنی ہیں۔ لیکن کیا انصاف میں چاہتا تھا کہ وہ ایسی احتیاط کی لوگوں کو تاکید کرتے ہوئے خود ایسی بے احتیاطی سے کام لیتے۔ آپ ہی اپنے قول پر عمل پیرا نہ ہوئے تو دوسرے پر آپ کے کلام کا کیا اثر پڑے گا۔ کیا یہ بات قابل تعجب نہیں کہ ایک طرف تو خواجہ صاحب نیتوں پر حملہ کرنے سے روکتے ہیں۔ اور دوسری طرف خود ہی تحریر فرماتے ہیں کہ ” یہ سمجھ لینا کوئی مشکل امر نہیں کہ کیوں یہ عقائد وجود میں آئے۔ جب حضرت میاں صاحب کے مریدین نے آیت استخلاف کا مصداق آپ کو سمجھا تو پھر یہ بھی ضروری ہوا کہ آپ کو کسی مستقل نبی کا خلیفہ قرار دیا جاوے قدر تاذہن اس طرف منتقل ہوئے کہ