انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 266

اثوار العلوم جلد ۲ ۲۶۶ القول الفصل Γ جواب دوں گا جو کسی قدر جدت رکھتے ہوں یا جن کے بیان کرنے میں خواجہ صاحب نے کوئی جدت پیدا کر دی ہو اور باقی مضامین کا مختصر جواب دے کر ان کتب و اخبارات و رسالہ جات کی طرف اشارہ کر دوں گا جن میں اس مسئلہ کے متعلق پہلے بحث ہو چکی ہو ۔ میں اس ٹریکٹ کا جواب خود اس لئے لکھتا ہوں کہ خواجہ صاحب نے اس میں بارہا مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں خود ان کے سوالات کا جواب دوں۔ اور حضرت مسیح موعود کا حوالہ دیا ہے کہ آپ بھی خود جواب دیا کرتے تھے۔ اس لئے مجھے بھی آپ پ کی کی پیروی کرنی چاہئے مجھے اس بحث سے سروکار نہیں کہ حضرت مسیح موعود اپنے مخالفین کے اعتراضوں کا کسی حد تک خود جواب دیا کرتے تھے اور کس حد تک اپنی جماعت پر اس کام کو چھوڑ دیتے تھے اور پھر کس حد تک مخالفین کے اعتراضوں کو نظر انداز ہی کر جایا کرتے تھے کیونکہ ان باتوں میں پڑنے سے اصل مضمون خبط ہو جاتا ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ خواجہ صاحب کے اس مطالبہ کو بھی پورا کر دوں اور پھر دیکھوں کہ خواجہ صاحب کہاں تک اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے اس ٹریکٹ کے پہلے اور دوسرے صفحہ پر اپنے بعض اعتقاد لکھے ہیں اور چونکہ ان میں سے بعض خود حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں ہیں۔ کسی احمدی کو ان سے انکار کرنے کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ جب کسی اختلافی مسئلہ پر انسان کچھ لکھے تو اس کے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھنا چاہئے ہم مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ ”حضرت محمد مصطفى الله ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفى الله پر ختم ہوئی"۔ "ہمارے نبی کریم اللہ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا یا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک شد شعشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہو گا۔ ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جلشانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کے بعض صفات کلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں"۔ ”جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستورا ادستور العمل قرار دیتا ہے۔ اور اس کے رسول حضرت محمد اکو در حقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے پس ایسا شخص خدا کی جناب میں پیارا ہو جاتا ہے اور خدا کا پیار یہ ہے کہ اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اس کی حمایت میں اپنے نشان ظاہر