انوارالعلوم (جلد 2) — Page 241
انوار العلوم جلد ۲ ۲۴۱ برکات خلافت اور جب تک نیند کا غلبہ نہ ہو اونگھ نہیں آتی۔ تو فرمایا کہ خدا کو کبھی اونگھ نہیں آئی کہ کام کرنے کی وجہ سے وہ تھک گیا ہو۔ اور اس پر نیند کا ایسا غلبہ ہوا ہو کہ اس کی آنکھیں بند ہو گئی ہوں اور نہ اسے معمولی نیند آتی ہے۔ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ خدا تعالی فرماتا ہے اب بتاؤ کہ جب تمہارا ایسا مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذنہ آتا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اس کا ہے تو اس کے مقابلہ میں اور کسی کو تم کس طرح اپنا آقا بنا سکتے ہو ۔ پھر لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے سوا اور کسی کو نہیں پوجتے ۔ اور غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے ہیں البتہ اس لئے ان کی نیاز میں دیتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ وہ خدا تعالی کے مقرب ہیں اور وہ ہماری شفاعت خدا تعالی کے حضور کریں گے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے حکم کے بغیر تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ اس زمانہ میں مسیح موعود سے بڑھ کر کس نے بڑا انسان ہونا تھا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ جب نواب صاحب کے لڑکے عبدالرحیم خان کے لئے : لئے جبکہ وہ بیمار تھا دعا کی تو الہام ہوا کہ یہ بچتا نہیں۔ آپ کو خیال آیا کہ نواب صاحب اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان آرہے ہیں ان کالر کا فوت ہو گیا تو انہیں ابتلاء نہ آجائے اس لئے آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ الہی الہی میں اس لڑکے کی صحت کے لئے شفاعت کرتا ہوں ۔ الہام ہوا مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَةٌ إِلَّا بِإِذْنِہ تم کون ہو کہ میری اجازت کے بغیر شفاعت کرتے ہو ۔ دیکھو مسیح موعود کتنا بڑا انسان تھا تیرہ سو سال سے اس کی دنیا کو انتظار تھی مگر وہ بھی جب سفارش کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم ہوتے کون ہو کہ بلا اجازت سفارش کرد۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جس وقت مجھے یہ الہام ہوا تو میں گر پڑا اور بدن پر رعشہ شروع ہو گیا قریب تھا کہ میری جان نکل جاتی لیکن جب یہ حالت ہوئی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اچھا ہم شفاعت کی اجازت دیتے ہیں شفاعت کرو۔ چنانچہ آپ نے شفاعت کی اور عبدالرحیم خان اچھے ہو گئے اور اللہ تعالٰی کے فضل سے اب تک زندہ ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا مگر مسیح موعود جیسے انسان کو جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم کون ہو جو سفارش کرو تو اور جو لوگ بڑے بنے پھرتے ہیں ان کی کیا حیثیت ہے کہ کسی کی سفارش کر سکیں۔ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کو آنحضرت لا کو اذن ہو گا تب آپ سفارش کریں گے۔ پھر کیسا نادان ہے وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ فلاں میری سفارش کر سکے گا۔