انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 216

انوار العلوم جلد ۴ ۔ ۲۱۶ برکات خلافت اکٹھے بیٹھے ہیں۔ میں اس بات کو معلوم کرنے کے لئے وہیں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ چلے تو معلوم ہوا کہ دونوں لنگڑے ہیں اور میں نے سمجھا کہ اس نسبت کی وجہ سے یہ اکٹھے بیٹھ گئے تھے۔ تو ہر ایک مرد و عورت کے جوڑے میں کسی نسبت اور تعلق کا ہونا ضروری ہے کند ہم جنس باہم جنس پرواز - تعلق تب ہی ہو سکتا ہے کہ مرد و عورت کی آپس میں نسبت ہو ۔ اگر شریف کو وضیع سے جوڑ دیا جائے تو اس کا بہت بڑا نقصان ہو گا۔ اگر کسی بیچاری احمدی لڑکی کا ایسی جگہ رشتہ کر دیا جائے کہ اس کا خاوند دین سے محض ناواقف ہو نماز نہ پڑھتا ہو دوسرے شرعی احکام کی اسے خبر نہ ہو تو اس کے لئے کتنی مشکل ہوگی۔ کیا وہ بیچاری اپنی زندگی آرام سے بسر کر سکے گی ہر گز نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو صحبت کے لئے بلائے اور وہ نہ آئے تو ساری رات اس پر لعنت برستی رہتی ہے۔ ادھر خاوند کی اس قدر فرمانبرداری کا حکم ہے ادھر اس قدر اختلاف ہو تو ایسی عورت مصیبت میں پڑے گی یا نہ پڑے گی اور ایسے گھر میں امن کس طرح رہ سکتا ہے۔ آنحضرت اللہ کی طرز کلام بھی کیسی نسب کے متعلق آنحضرت اللا علی کا فیصلہ پیاری ہے کہ ہر ایک جو فطرت صحیحہ رکھتا ہے سن کر آپ پر قربان ہو جاتا ہے۔ اہل عرب میں حسب نسب کا بڑا رواج تھا اس لئے صحابہ نے آنحضرت سے پوچھا۔ یا رسول اللہ سب سے شریف کون ہے اس سے ان کا یہ منشاء تھا کہ آپ چند قبیلوں کے نام لے دیں گے اور انہیں اچھا سمجھا جائے گا آپ نے فرمایا سب سے شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ نیک اور متقی ہو ۔ انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ہمارے سوال کا یہ مطلب نہ تھا۔ فرمایا تو پھر سب سے شریف یوسف تھا کیونکہ یوسف نبی تھا اس کا باپ نبی تھا اس کے باپ کا باپ نبی تھا۔ سبحان اللہ کیا ہی لطیف طرز سے آپ اللہ نے صحابہ کے سوال کا جواب دیا کہ ان کی بات کا جواب بھی آگیا اور ان کی دل شکنی بھی نہ ہوئی انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارا یہ مطلب بھی نہیں تھا۔ فرمایا اچھا تو تم لوگ قبائل عرب کے متعلق سوال کرتے ہو ۔ ان میں سے جو جاہلیت میں شریف سمجھے جاتے تھے اسلام میں بھی وہی شریف ہیں مگر شرط یہ ہے کہ دین سے اچھی طرح واقف ہوں۔ ہوں۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَا ضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ فَاكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفَ س يُوسُفَ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِّي اللَّهِ ابْنِ نَبِيا ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرْبِ تَسْأَلُونِي النَّاسُ مَعَادِنُ