انوارالعلوم (جلد 2) — Page 213
انوار العلوم جلد ۲ ۲۱۳ بركات خلافت سمجھتا ہوں کہ لڑکیوں کو اس امید میں بٹھارکھو کہ کسی مالدار آدمی سے ہی ان کا بیاہ کریں گے اگر کوئی آسودہ آدمی جو دین دار بھی ہو خواہش کرتا ہے تو بے شک اس سے رشتہ کر دو۔ لیکن اگر کوئی ایسا موقع نہیں ملا اور ایک تمہاری حیثیت جیسی حیثیت والا یا اس کے قریب قریب کی حیثیت کا آدمی بھی درخواست کرتا ہے اور اس میں کوئی دینی نقص نہیں تو اسے اس خیال سے رومت کرو کہ یہ مالدار نہیں۔ اگر کسی کی اپنی تنخواہ سو روپیہ ماہوار ہو اور وہ کسی بڑے مالدار اور دولتمند کو تلاش کرے جو کہ بہت زیادہ دولتمند ہو تو یہ بات کبھی فتنہ کا موجب بھی ہو جاتی ہے کیونکہ ایسے تلاش کرنے والوں کو اکثر اوقات ایسے رشتے جب احمدیوں میں سے نہیں ملتے تو وہ اپنی لڑکی غیر احمدیوں کو دے دیتے ہیں۔ اس غلط اور بیہودہ طریق تلاش کو چھوڑ کر ہر ایک احمدی کو اپنی حیثیت کا آدمی تلاش کرنا چاہئے تاکہ نہ لڑکی کو تکلیف ہو اور نہ غیروں کے گھر وہ جائے۔ پچھلے زمانہ میں شریف لوگ اس طرح بھی کیا کرتے تھے کہ کسی غریب آدمی کو نیک بخت اور متقی دیکھ کر اپنی لڑکی دے دیا کرتے تھے اور ان دونوں کے اخراجات کے لئے خود کوئی سامان کر دیتے تھے ۔ آج کل بھی اگر کوئی ایسا ہی کر سکے تو بہت عمدہ بات ہے۔ اور اگر نہیں کر سکتا تو اپنی حیثیت کے مطابق تلاش کرے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا گئیں دنیوی حیثیت کو بھی کفو کے ماتحت ہی خیال کرتا ہوں۔ اور : اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اس کی بھی ایک حد تک ضرورت تسلیم کرتا ہوں۔ دوسرا سوال کفو کے ماتحت قومیت کا آتا ہے۔ اور قوم کی پابندی بھی ایک حد تک ضروری ہے اور فطرتا اس کی پابندی کرنی پڑتی ے سے ہے۔ مثلاً اگر ایک اعلیٰ خاندان کا شخص اپنی لڑکی ایک ایسے شخص کو دے دے جو چوہڑے مسلمان ہوا ہو تو وہ لڑکی اپنے خاوند کو حقیر سمجھے گی۔ اور اس وجہ سے ان میں ہمیشہ جنگ رہے گی اور جو نکاح کی غرض ہے فوت ہو جائے گی یا اور کوئی ایسا نقص ہو جس کی وجہ سے بیوی خاوند کو یا خاوند بیوی کو حقیر خیال کرے تو ایسے جوڑ کا نتیجہ ہمیشہ خراب نکلے گا۔ اس لئے اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے کہ کسی خاوند اور بیوی کے اخلاق و عادات تعلیم و تربیت اور تمدنی درجہ میں کوئی ایسا بین فرق نہ ہو جو ہمیشہ ان میں لڑائی کا باعث رہے اور قوموں کا اختلاف بھی دراصل انہی اختلافات کے باعث شروع ہوا ہے۔ لیکن ایسی قومیں جو شریف ہیں اور شرافت کے کاروبار کرتی ہیں ان کو لڑکی دے دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ دیکھو حضرت مسیح موعود نے اپنی لڑکی کہاں دی ہے ۔ مغلوں میں نہیں دی۔ پھر ہم بھائیوں میں سے ایک کی شادی بھی مغلوں میں نہیں ہوئی ۔ حتی کہ میں نے دوسری شادی کی ہے وہ بھی مغل نہیں ہیں۔ پس میں کہتا ہوں کہ شرافت کا لحاظ رکھو۔ کسی قوم میں جب دین