انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 4

انوار العلوم جلد ۲ کلمات طیبات اسلامی سے کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعمال کی اقتداء کرو ۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور کامل تربیت کا نمونہ تھے۔ آنحضرت ا کے بعد دوسرا اجماع جو ہوا وہ وہی خلافت حقہ راشدہ کا سلسلہ ہے۔ خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کی خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئی جب وہ خلافت محض حکومت کے رنگ میں تبدیل ہو گئی تو گھٹتی گئی۔ یہاں تک کہ اب جو اسلام اور اہل اسلام کی حالت ہے تم دیکھتے ہو۔ تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالٰی نے اسی منہاج نبوۃ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت کے وعدوں کے موافق بھیجا اور ان کی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے ۔ حضرت خلیفہ المسیح مولانا مولوی نور الدین صاحب (ان کا درجہ اعلیٰ علیین میں ہو۔ اللہ تعالٰی کروڑوں کروڑ رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل کرے جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ان کے دل میں بھری ہوئی اور ان کے رگ وریشہ میں جاری تھی جنت میں بھی اللہ تعالی انھیں پاک وجودوں اور پیاروں کے قرب میں آپ کو اکٹھا کرنے) اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے۔ اور ہم سب نے اس عقیدہ کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ پس جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا۔ اس وقت جو تم نے پکار پکار کر کہا ہے کہ میں اس بوجھ کو اٹھاؤں اور تم نے بیعت کے ذریعہ اظہار کیا۔ ہے میں نے مناسب سمجھا کہ میں تمہارے آگے اپنے عقیدہ کا اظہار کروں۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں حدیث میں آیا ہے کہ تم اپنے غلام کو وہ کام مت بتاؤ جو وہ کر نہیں سکتا۔ تم نے مجھے اس وقت غلام بنانا چاہا ہے تو وہ کام مجھے نہ بتاتا جو میں نہ کر سکوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کمزور اور گنہگار ہوں میں کسی طرح دعوی کر سکتا ہوں کہ دنیا کی ہدایت کر سکوں گا اور حق اور راستی کو پھیلا سکوں گا۔ ہم تھوڑے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر اللہ تعالی کے فضل اور کرم اور غریب نوازی پر ہماری امیدیں بے انتہاء ہیں۔ تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھا ہے تو سنو اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے میری مدد کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالی سے فضل اور توفیق چاہو اور اللہ تعالی کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرو۔ میں انسان ہوں اور کمزور انسان مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا۔ تم سے غلطیاں ہوں گی میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگزر کروں گا اور میرا