انوارالعلوم (جلد 2) — Page 198
انوار العلوم جلد ۲ ۱۹۸ برکات خلافت حدیث میں آتا ہے سَتَكُونُ اَثَرَةً وَأُمُو تُنكِرُونَهَا تنكِرُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ تُوَدُّونَ الْحَقَ الَّذِى عَلَيْكُمْ وَتَسْأَلُونَ ال الُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ ( بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام) یعنی ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ ایسے حاکم ہو جائیں گے کہ جو اپنے لئے بھلائی چاہیں گے اور تمہارے آرام کی فکر نہ رکھیں گے اور ایسے امور ظاہر ہوں گے جو تم کو برے معلوم ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسے وقت میں ہمیں کیا حکم ہے یعنی ہم اس وقت کیا کریں۔ کیا حکام کا مقابلہ کریں اور ان کو سیدھا کریں فرمایا جو حکام کے حقوق تمہارے ذمہ ہیں ان کو تم ادا کر دو۔ اور جو تمہارے حقوق ان کے ذمہ ہیں انہیں خود طلب نہ کرو۔ بلکہ اللہ تعالی پر ڈالدو کہ وہ خود ان کا زمہ دار ہو۔ اس کے مقابلہ میں حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ عِرْضِهِ خودان وَ مَالِهِ - فَهُوَ شَهِيدٌ - جو اپنی عزت اور مال کے بچانے کے لئے کوشش کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔ پس ایک طرف تو مال و عزت کی حفاظت میں مارے جانے والے کو آپ شہید فرماتے ہیں۔ اور دوسری طرف ارشاد ہوتا ہے کہ حکام جو کچھ بھی ظلم کریں صبر کرنا۔ اور ان کے ظلم کے مقابلہ میں خود ہاتھ نہ اٹھانا۔ اپنے حقوق کا مطالبہ بھی ان سے نہ کرنا بلکہ اسے بھی اللہ پر ہی چھوڑنا۔ ان دونوں حکموں کو ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حکم مختلف اوقات کے لئے ہیں۔ کسی زمانہ میں تو یہ حکم ہے کہ خوب اپنے حقوق طلب کرو اور کسی زمانہ میں یہ حکم ہے کہ جو کچھ ملتا ہے اسے خاموشی سے قبول کرو ۔ مقابلہ تو الگ رہا حکام سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی نہ کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زمانہ حکومتوں پر ایسا ہوتا ہے کہ ان کی حالت ایسی نازک ہو جاتی ہے کہ اگر وہ اپنی پہلی حالت پر چلی جائیں تو چلی جائیں لیکن اگر ان کی حالت میں ذرہ بھی تغیر آجائے تو خواہ وہ بہتری کی طرف ہی ہو لیکن وہ ملک ثابت ہوتا ہے کیونکہ کمزوری ظاہر ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں ملک کا حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا اس کی تباہی کا یقینی باعث ہو جاتا ہے۔ پس ایسی حالت میں رسول اللہ ا نے مسلمانوں کو حکام سے حقوق طلب کرنے سے بھی روک دیا تا ایسا نہ ہو کہ حقوق طلب کرتے کرتے اپنی حکومت کو ہی تباہ نہ کرلیں لیکن دوسرے اوقات میں جب یہ حالت نہ ہو تو خاص حدود کے اندر حقوق کا مطالبہ جائز رکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم بھی اسی طرح خاص مصالح کے ماتحت ہے۔ ایک قصہ کو لکھتا ہے کہ ایک دیوار تھی جو اس کے اوپر چڑھ کر اس میں سیاست کیا چیز ہے؟ جھانکتا پھر نہ لوٹ سکتا بلکہ ہنسا ہنستا اندر ہی کو د پڑتا۔ یہ قصہ تو جھوٹ ہے و بخاری کتاب المظالم باب من قبل دون ماله (مفهوما)