انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 196

انوار العلوم جلد ۲ 194 برکات خلافت ८५۔८ جوئے اور شراب کی نسبت اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمَ كَبِير و وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا۔ (البقره : ۲۲۰) شراب کے متعلق لوگ تم سے سوال کرتے ہیں اور تم سے پوچھتے ہیں کہ یہ جائز ہے یا حرام ۔ اور جوئے کے متعلق بھی پوچھتے ہیں۔ فرمایا ان کو اس کا یہ جواب دے دو (اسلام کیا ہی پاک مذہب ہے کہ کسی کی نیکی اور اچھی صفت کو ضائع نہیں کرتا۔ کیا ہی عمدہ اور پاک جواب دیا ) کہ ان میں کچھ بدیاں ہیں اور کچھ فوائد بھی۔ لیکن بدیاں فوائد کی نسبت زیادہ ہیں۔ یہ کیا ہی لطیف جواب دیا ہے۔ ان کے سوال پر انہیں منع نہیں کیا گیا کہ تم شراب نہ پیو۔ اور انہ پیو۔ اور جوانہ کھیلو۔ بلکہ یہ فرما دیا ہے کہ ان میں منافع تھوڑے ہیں اور نقصان زیادہ - اب تم آپ ہی سمجھ لو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے۔ تو خدا تعالٰی نے ہمارے لئے یہ قاعدہ کلیہ بیان فرمادیا کہ ہر ایک چیز میں دو باتیں ہوتی ہیں یعنی نفع اور نقصان۔ پس اگر کسی چیز میں نفع زیادہ ہو ۔ اور نقصان تھوڑا۔ تو اس کو کر لیا کرو ۔ اور اگر کسی چیز میں نقصان زیادہ ہو اور نفع تھوڑا تو اس کو اختیار نہ کیا کرو - دنیا کا تمام کار خانہ اسی قاعدہ پر چل رہا ہے ۔ ہر ایک انسان جس چیز میں نفع زیادہ دیکھتا ہے اس کو اختیا کر لیتا ہے اور جس میں نقصان زیادہ دیکھتا ہے اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ اسی قاعدہ کے مطابق تم سیاست کو دیکھو۔ سیاست بالذات کوئی بری چیز نہیں ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ ایک ہی چیز ایک وقت میں حلال ہوتی ہے تو وہی دوسرے وقت میں حرام ہو جاتی ہے ۔ مثلاً نماز ایک ایسی چیز ہے جس سے کہ قرب الہی حاصل ہوتا ہے مگر ایک وقت میں نماز پڑھنے والا شیطان ہو جاتا ہے یعنی سورج کے پڑھنے یا ڈوبنے کے وقت نماز پڑھنے والا بجائے قرب الہی حاصل کرنے کے شیطان بن جاتا ہے ۔ اسی طرح روزہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ رکھنے والے کا میں (اللہ ) ہی اجر ہوں مگر آنحضرت ا فرماتے ہیں کہ عید کے دن جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ شیطان ہیں۔ پس گو روزہ رکھنا ایک نہایت اعلیٰ عبادت تھی لیکن رسول کریم ﷺ نے عید کے دن روزہ رکھنے کو شیطانی فعل قرار دیا جس سے معلوم ہوا کہ ایک چیز ایک وقت میں اچھی ہوتی ہے تو دوسرے وقت وہی بری ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کی پیٹھ میں درد ہو رہا ہو اور وہ کسی کو کہے کہ میری پیٹھ پر کمیاں مارو۔ میں تمہیں انعام دوں گا تو اس طرح کمیاں مارنے پر اس شخص کو انعام ملے گا۔ لیکن اگر کوئی مجلس میں بیٹھا باتیں کر رہا ہو اور اس کا نو کر پیچھے سے آکر اس کی پیٹھ پر کمیاں مارنی شروع کر دے تو جانتے ہو کہ اس سے کیا سلوک کیا جائے گا۔ اس کو سزادی جائے گی کیونکہ موقع کے مطابق ہر ایک بات ہوتی ہے۔