انوارالعلوم (جلد 2) — Page 189
انوار العلوم جلد ۲ ۱۸۹ برکات خلافت میں تیار کی گئی ہے تو آپ کا ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا کہ حضور فوت ہو گئے اس وقت میں بے اختیار ہو کر آگے بڑھا اور گاڑی والے کو کہا کہ گاڑی دوڑاؤ اور جلد پہنچاؤ ۔ اسی وقت نواب صاحب کو دہ رویا یاد آگئی اور آپ نے کہا کہ وہ رویا پوری ہو گئی۔ یہ رویا ہستی باری کا ایک ایساز بر دست ثبوت ہے کہ سوائے کسی ایسے انسان کے جو شقاوت کی وجہ سے صداقت نہ ماننے سے بالکل انکار کر دے ۔ ایک حق پسند کے لئے نہایت رشد اور ہدایت کا موجب ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے فیصلہ سے بچنے کی لاکھ کوشش کرے تقدیر پوری ہو کر ہی رہتی ہے میں نے جس خوف سے لاہور کا سفر ملتوی کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ امر قادیان ہی میں پورا ہوا۔ قریباً تین حضرت کی وفات اور میری خلافت کے متعلق آٹھویں آسمانی شہادت پارسان کا عرصہ ہوا جو میں نے دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر ان چیف مقرر فرمایا ہے اور میں سر اومور کرے سابق کمانڈر ان چیف افواج ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں۔ چارج لیتے لیتے ایک امر پر میں نے کہا کہ فلاں چیز میں تو نقص ہے میں چارج میں کیونکر لے لوں؟ میں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ نیچے کی چھت بھٹی (ہم چھت پر تھے) اور حضرت خلیفہ المسیح خلیفہ اول اس میں سے برآمد ہوئے اور میں خیال کرتا ہوں کہ آپ سر او مور کرے کمانڈر ان چیف افواج ہند ہیں آپ نے فرمایا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ لارڈ کچر سے مجھے یہ چیز اسی طرح ملی تھی۔ اس رویا پر مجھے ہمیشہ تعجب ہوا کرتا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ اور میں اپنے دوستوں کو سنا کر حیرت کا اظہار کیا کرتا تھا کہ اس خواب سے کیا مراد ہو سکتی ہے ؟ مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ واقعات کے ظہور پر معلوم ہوا کہ یہ رویا ایک نہایت ہی زبردست شہادت تھی اس بات پر کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد جو فیصلہ ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کے ماتحت ہوا ہے ۔ چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی وفات پر میری طبیعت اس طرف گئی کہ یہ رویا تو ایک عظیم الشان پیشگو پیشگوئی تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ مولوی صاحب کے بعد خلافت کا کام میرے سپرد ہو گا اور یہی وجہ تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح مجھے یہ لباس سر او مور کرے کے دکھائے گئے اور افواج کی