انوارالعلوم (جلد 2) — Page 181
انوار العلوم جلد ۲ تمہارے لئے خیر کا موجب ہو ۔ ۱۸۱ برکات خلافت اس کے بعد نظارہ بدل گیا اور دیکھا کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے برخلاف لوگوں نے ہنگامہ کیا ہے اور میں ہنگامہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کے ساتھ باتیں کرتا ہوں۔ باتیں کرتے کرتے اس سے بھاگ کر الگ ہو گیا ہوں اور یہ کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو مجھ سے شہزادہ خفا ہو جائے گا۔ اتنے میں ایک شخص سفید رنگ آیا ہے اور اس نے مجھے کہا کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے تین درجے ہیں۔ درجے ہیں۔ ایک وہ جو صرف نماز پڑھ لیں۔ یہ لوگ بھی اچھے ہیں۔ ں۔ دوسرے وہ جو مسجد کی انجمن میں داخل ہو جائیں۔ تیسرا متولی۔ نہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور خواب بھی دیکھی لیکن اس کے یہاں بیان کرنے کی کوئی ضرورت ان دونوں رویا پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود کی وفات سے بھی ایک سال اور چند ماہ پہلے اللہ تعالی نے مجھے اس فتنہ خلافت کے متعلق خبر دے دی تھی اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب خلافت کا سوال ہی کسی کے ذہن میں نہیں آسکتا تھا اور انجمن کا کاروبار بھی ابھی نہیں چلا تھا۔ بہت تھوڑی مدت اس کے قیام کو ہوئی تھی اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن یہ نوزائیدہ انجمن مسیح موعود کی جانشین ہونے کا دعویٰ کرے گی بلکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ احمدیوں کے دماغ میں وہم کے طور پر بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ حضرت صاحب فوت ہوں گے بلکہ ہر ایک شخص باوجو د اشاعت وصیت کے غالبا یہ خیال کرتا تھا کہ یہ واقعہ ہماری وفات کے بعد ہی ہو گا اور اس میں شک ہی کیا ہے کہ عاشق اپنے معشوق کی موت کا وہم بھی نہیں کر سکتا اور یہی حال جماعت احمدیہ کا تھا۔ پس ایسے وقت میں خلافت کے جھگڑے کا اس وضاحت سے بتا دینا اور اس خبر کا حرف بہ حرف پورا ہونا ایک ایسا زبردست نشان ہے کہ جس کے بعد متقی انسان کبھی بھی خلافت کا انکار نہیں کر سکتا کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے ؟ کہ ایک واقعہ سے دو سال پہلے اس کی خبر دے اور ایسے حالات میں دے کہ جب کوئی سامان موجود نہ ہو اور وہ خبر دو سال بعد بالکل حرف به حرف پوری ہو اور خبر بھی ایسی ہو جو ایک قوم کے ساتھ تعلق رکھتی ہو ۔ دیکھو ان دونوں رویا سے کس طرح ثابت ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ ہو گا جو بظاہر خطر ناک معلوم ہو گا لیکن در حقیقت نہایت نیک نتائج کا پیدا کرنے والا ہو گا چنانچہ خلافت کا جھگڑا جوا خلافت کا جھگڑا جو ۱۹۰۹ء میں برپا