انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 176

انوار العلوم جلد ۲ ۱۷۶ برکات خلافت (۱) دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۷ / دسمبر ۱۸۹۲ء کو اپنا ایک فتنہ کا ہونا ضروری تھا رو یا بیان فرمایا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن ۔ گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں۔ اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضی ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔ تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ لال میرے پاس ہیں اور شفقت اور تودد سے مجھے فرماتے ہیں۔ کہ یا علی دَعْهُمْ وَأَنْصَارَ وَاَنْصَارَهُمْ وَذِرَاعَتَهُمْ یعنی اے علی ان ۔ ان سے اور ان کے مددگاروں کو انکی کھیتی ہے سے کنارہ کر۔ اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے۔ اور میں نے پایا۔ کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت ا مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے"۔ (تذکرہ: صفحہ ۲۰۹ ) اس رویا میں حضرت مسیح موعود کو بتایا گیا کہ لوگ تمہاری خلافت کا انکار کریں گے اور فتنہ ڈالیں گے ۔ لیکن صبر کرنا ہو گا۔ آپ نے اس رویا کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ کہ لوگ میرا انکار کریں گے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی باتوں کے کئی معنے ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے الہام شَاتَانِ تُذبَحَانِ کے پہلے اور معنے کئے تھے۔ اور پھر اسے سید عبد اللطیف صاحب شہید اور مولوی عبدالرحمن صاحب پر چسپاں فرمایا اور دونوں ہی معنی درست تھے۔ تو اس رؤیا کے ایک معنے تو یہ بھی ہیں کہ لوگ حضرت مسیح موعود کا انکار کریں گے۔ لیکن اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے بعد جو خلافت ہو گی اس کا انکار ایک جماعت کرے گی اور فتنہ ڈالے گی۔ پس اگر کوئی جماعت خلافت کی منکر نہ ہوتی تو یہ رویا کس طرح پوری ہوتی۔ (۲) لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کا انکار کرنے والے بڑے آدمی ہیں۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے لوگوں کی نسبت ہی لکھتے ہیں کہ "پس جو شخص در حقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں۔ بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں۔ اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں۔ اور بعض بد قسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد