انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 170

انوار العلوم جلد ۲ ۱۷۰ برکات خلافت دوستوں کی نعمتوں کو کوئی رو نہیں کرتا بلکہ بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو میں خدا تعالی کی دی ہوئی اس نعمت کو کس طرح رو کردوں۔ کیونکہ خدا تعالٰی کی نعمتوں کو رد کرنے والوں کے رد کر دوں۔ کیونکہ خداتعالی کی کو رد کرنے والوں کے بڑے خطر ناک انجام ہوتے رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم کے لوگ طور پر گئے۔ خدا تعالٰی نے ان کو فرمایا تھا۔ کہ آؤ ہم تم سے کلام کریں۔ وہاں جب زلزلہ آیا تو وہ ڈر گئے اور کہنے لگے کہ ہم خدا کی باتوں کو نہیں سننا چاہتے اور واپس چلے آئے۔ خدا تعالٰی نے ان کو اس نعمت کی ناقدری میں یہ سزادی کہ فرمایا۔ اب تم سے کوئی شرعی نبی بر پا نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ تمہارے بھائیوں میں سے کیا جائے گا۔ تو خدا تعالی کی نعمت کو رد کرنے والوں کی نسبت جب میں یہ دیکھ چکا ہوں تو پھر خدا کی نعمت کو میں کسی طرح رو کر دیتا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ خدا جس نے مجھے اس کام کے لئے چنا ہے وہ خود میرے پاؤں کو مضبوط کر دے گا۔ اور مجھے استقامت اور استقلال بخشے گا۔ پس اگر مجھے خلیفہ ماننے والے بھی سب کے سب نہ ماننے والے ہو جاتے اور کوئی بھی مجھے نہ مانتا اور ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ ہی کرتی کہ میری جان نکال لیتی تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا۔ اور کبھی خدا تعالٰی کی نعمت کے رو کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہ آتا کیونکہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔ امام حسن ان سے یہی غلطی ہوئی تھی۔ جس کا بہت خطرناک نتیجہ نکلا۔ امام حسن کا واقعہ گو یہ غلطی ان سے ایک خاص اعتقاد کی بناء پر ہوئی اوروہ یہ کہ بیٹا باپ کے بعد خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حضرت عمر کا اعتقاد تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد ہے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے متعلق فرمایا کہ میرے بیٹے سے اس میں مشورہ لیا جائے لیکن اس کو خلیفہ بننے کا حق نہ ہو گا۔ حضرت علی نے اپنے بیٹے امام حسن کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا۔ ان کی نیت نیک تھی کیونکہ اور کوئی ایسا انسان نہ تھا جسے خلیفہ بنایا جاسکتا اور جو خلافت کا اہل ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسن بھی حضرت عمرؓ کا ساہی خیال رکھتے تھے یعنی یہ کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہئے اس لئے انہوں نے بعد میں معاویہ سے صلح کرلی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بعد امام حسین اور ان کا سب خاندان شہید ہو گیا۔ ایک دفعہ انہوں نے خدا کی نعمت کو چھوڑا۔ خدا تعالٰی نے کہا اچھا اگر تم اس نعمت کو قبول نہیں کرتے تو پھر تم میں سے کسی کو یہ نہ دی جائے گی۔ چنانچہ پھر کوئی سید کبھی بادشاہ نہیں ہوا سوائے چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے سیدوں کو حقیقی بادشاہت اور