انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 167

انوار العلوم جلد ۲ 142 برکات خلافت جائے گا۔ پھر میں نے کہا کہ یہ بحث نہیں ہونی چاہئے کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو بلکہ اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ کون خلیفہ ہو ۔ اس وقت پھر میں نے یہ کہا کہ آپ اپنے میں سے کوئی آدمی پیش کریں میں اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر میں یہ کبھی بھی نہیں مان سکتا کہ کوئی خلیفہ نہ ہو۔ اگر تمام لوگ اس خیال کو چھوڑ دیں اور اس خیال کے صرف چند آدمی رہ جائیں تب بھی ہم کسی نہ کسی کی بیعت کرلیں گے اور ایک کو خلیفہ بنائیں گے۔ مگر ہم یہ کبھی نہ مائیں گے کہ خلیفہ نہ ہو ۔ دوسرا آدمی خواہ کوئی ہو ۔ غیر احمدیوں کو کافر کہے یا نہ کیے۔ ان کے پیچھے نماز جائز سمجھے یا نہ سمجھے۔ ان سے تعلقات رکھے یا نہ رکھے۔ ایک خلیفہ چاہئے تاکہ جماعت کا اتحاد قائم رہے اور ہم اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ گفتگو بیچ میں ہی رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہوا، اور تجویز ہوئی کہ اس پر مزید غور کے بعد پھر گفتگو ہو اور دوسرے دوست بھی شامل کئے جائیں۔ دوسرے دن پانچ سات آدمی مشورہ کے لئے آئے اور اس بات پر بڑی بحث ہوئی کہ خلافت جائز ہے یا نہیں۔ بڑی بحث مباحثہ کے بعد جب وقت تنگ ہو گیا تو میں نے کہا اب صرف ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ خلیفہ کی ضرورت سمجھتے ہیں، وہ اپنا ایک خلیفہ بنا کر اس کی بیعت کر لیں۔ ہم ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشورہ پوچھتے ہیں۔ آپ لوگ جو کہ خلیفہ ہونا نا جائز سمجھتے ہیں وہاں تشریف نہ لائیں تاکہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو ۔ اس کے بعد ہم یہاں (مسجد نور میں) آگئے۔ وہ لوگ بھی یہیں آپہنچے۔ پھر جو خدا کو منظور تھا وہ ہوا۔ اس وقت جو لوگ میرے پاس بیٹھے تھے وہ خوب جانتے ہیں کہ اس وقت میری کیا حالت تھی۔ اگر میں نے پہلے سے کوئی منصوبہ سازی کی ہوتی تو چاہئے تھا کہ پہلے سے ہی میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے ہوتے۔ لیکن اس وقت ایک شخص مجھے بتلاتا گیا اور میں وہ الفاظ کہتا گیا۔ کیا یہی منصوبہ باز کا حال ہوتا ہے؟ پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ایک شخص تقریر کرنے کے لئے تیسرا اعتراض اور اس کا جواب کھڑا ہوا تو اس کو کہا گیا کہ بیٹھ جاؤ۔ اس سے اس کی ہتک ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس وقت اس کو اگر مار بھی پڑتی تو کوئی حرج نہ تھا کیونکہ یہی تو خلیفہ کی تھا کیونکہ یہی تو خلیفہ کی ضرورت تھی جس کا وہ انکار کرتا تھا۔ اس نے دیکھ لیا کہ نور الدین خلیفہ المسیح نے ہی اس کی