انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 165

انوار العلوم جلد ۲ ۱۶۵ بركات خلافت آنحضرت ا کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے۔ اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا ۔ اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا۔ اور اس وعدہ کو پورا کیا۔ جو فرمایا تھا وَ لَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ امنا ( النور : ۵۶) یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے ۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا وقت میں ہوا جبکہ حضرت موسیٰ " مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہو گئے ۔ اور بنی اسرائیل میں ان کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسی کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔ اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے ۔ اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا " (الوصیت صفحہ ۷۶ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۴-۳۰۵) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گرتی ہوئی جماعت کو سنبھالنے کے لئے وہی طریق بتایا ہے۔ جو آنحضرت ا - حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے بعد عمل میں آیا ۔ یعنی خلفاء ہوئے ۔ لیکن جہاں حضرت مسیح موعود نے تبلیغ کا حکم فرمایا ہے۔ وہاں یہ لکھا ہے ۔ وو اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں۔ میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں۔ کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے۔ اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے ۔ یہیں خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے "۔ الوصيت صفحه ۹۰۸ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۶ ۳۰۷ ) تو حضرت مسیح موعود نے جو کچھ اپنی جماعت کے متعلق فرمایا ہے۔ ویسا ہی حضرت مسیح نے بھی لکھا ہے۔ البتہ مسیح ناصری نے پطرس کا نام لے کر اس کے سپرد اپنی بھیڑوں ( مریدوں) کو کیا تھا۔ لیکن چونکہ مسیح محمدی کا ایمان اس سے زیادہ تھا۔ اس لئے اس نے کسی کا نام نہیں لیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے سپرد اس معاملہ کو کر دیا کہ وہ جس کو چاہے گا کھڑا کر دے گا ادھر ایک جماعت کو حکم دے دیا۔ کہ یہ ” میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں ۔ " ہم کہتے ہیں کہ یہ سب احمدیوں کا فرض ہے۔