انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 157

انوار العلوم جلد ۲ ۱۵۷ برکات خلافت ہوتا۔ بعض لوگ گھٹنوں یا پاؤں کو ہاتھ لگاتے ہیں گو وہ یہ کام شرک کی نیت سے نہیں دوسری بات بلکہ محبت اور عقیدت کے جوش میں کرتے ہیں لیکن ایسے کاموں کا انجام ضرور شرک ہوتا ہے۔ اس وقت ایسا کرنے والوں کی نیت شرک کرنے کی نہیں ہوتی مگر نتیجہ شرک ہی تا ہے۔ بخاری شریف میں آیا ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں حضرت نوح کی قوم کے جن بتوں کے نام آئے ہیں وہ دراصل مشرک اقوام کے بڑے بڑے آدمی تھے۔ ان کے مرنے پر پچھلوں نے ان کی یادگاریں قائم کرنی چاہیں تاکہ ان کو دیکھ کر ان میں جو صفات تھیں ان کی تحریک ہوتی رہے۔ اس کے لئے انہوں نے سٹیچو ( مجسمہ ) بنا دیئے لیکن ان کے بعد آنے والے لوگوں نے جب دیکھا کہ ہمارے آباء واجداد ان مجسموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے تو انہوں نے ان کی اور عزت کرنی شروع کر دی پھر اسی طرح رفتہ رفتہ ان کی تعظیم بڑھتی گئی۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے آگے سجدے کئے جانے لگے اور ان کی اصل حالت کو بھلا کر انہیں خدا کا شریک بنا لیا گیا۔ تو بعض باتیں ابتداء میں چھوٹی اور بے ضرر معلوم ہوتی ہیں مگر ان کا نتیجہ ایسا خطرناک نکلتا ہے کہ پھر اس کی تلافی نا ممکن ہو جاتی ہے۔ میری اپنی حالت اور فطرت کا تو یہ حال ہے کہ میں ہاتھ چومنا بھی ناپسند کرتا تھا۔ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ چومتے تھے اور وہ اس سے منع نہ فرماتے تھے جس سے میں سمجھتا تھا کہ یہ جائز ہے لیکن میرے پاس دلیل کوئی نہ تھی۔ پھر خلیفہ المسیح جن کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میرے قدم بقدم چلتا ہے ان کے ہاتھوں کو لوگ چومتے ۔ آپ میرے استاد بھی تھے اور دوسرے خلیفہ وقت میں آپ کے فعل کو بھی حجت خیال کرتا تھا لیکن مجھے پوری تسلی جو دلائل کے ساتھ حاصل ہوتی ہے تب حاصل ہوئی جب میں نے دیکھا کہ آنحضرت ا کے ہاتھوں کو بھی صحابہ چومتے اور آنکھوں سے لگاتے تھے اس لئے میں ایسے لوگوں کو جو ہاتھ چومتے ہیں روکتا تو نہیں لیکن انہیں ایسا کرتے دیکھ کر مجھے شرم آجاتی ہے اور میں صرف اس لئے انہیں منع نہیں کرتا کہ وہ یہ کام اپنی محبت اور عقیدت کے جو برت کے جوش میں کرتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو بڑھانا نہیں چاہئے تاکہ وہ شرک کی حد تک نہ پہنچ جائیں۔ پہلی اہم بات اب میں ایک بات بیان کرنا شروع کرتا ہوں اور وہ خلافت کے متعلق ہے۔ شاید کوئی کہے کہ خلافت کے بڑے جھگڑے سنتے رہے ہیں اور یہاں بھی کل اور پرسوں سے سن رہے ہیں آخر یہ بات