انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvi of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page xvi

انوار العلوم جلد ۲ 9 تعارف کتب عقیدہ (میں) مولوی صاحب (یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول - ناقل) بھی ان کے ساتھ تھے۔ اور شخصی حکومت (خلافت کا نام رکھا ہے) کے قائل نہ تھے۔ جس شخص نے مولوی صاحب کی زندگی ان کی چھ سالہ تقریر میں ، خطبے درس وغیرہ سے ہوں اسے تو اس بات کو معلوم کر کے حیرت ہی ہوتی ہے میں تو حیران ہوں اس جرات کو کیا کہوں بھول چوک اس کا نام نہیں رکھا جا سکتا غلطی اسے نہیں کہہ سکتے۔ گھنٹوں اس بارے میں مجھ سے حضرت (خلیفہ اول) نے گفتگو فرمائی ہے۔ ہر درس میں جہاں کہیں بھی خلافت (کا) ذکر آجاتا تو خلافت کے منکرین پر لے دے کرتے مگر آج وہ کہا جاتا ہے جو کہا جاتا ہے۔۔۔ خواجہ صاحب کے رسالہ کے جواب میں جو مضمون میں نے لکھا ہے اس میں ظلی نبوت پر کافی بحث ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے تو ہماری طرح ہی علی نبی ہیں۔ لیکن اس کے معنی ایسے کر دیتے ہیں کہ اس سے نبی صرف نام رہ جاتا ہے کام نہیں رہتا ۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے ظل کا مطلب ہی نہیں سمجھا جو شخص تصویر کا نقص نکالتا ہے وہ دراصل اس انسان کا نقص نکالتا ہے جس کی وہ تصویر ہے " ۔ ( تاریخ احمدیت جلد ۵ صفحہ ۱۸۷۷۱۸۷) ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالی کے نزدیک : اس رسالہ کی اشاعت پر آپ کے کردار کے دو پہلو نکھر کر سامنے آتے ہیں اول آپ کی بے پناہ تصنیفی صلاحیت دوم اہم کاموں کو غیر معمولی تیزی اور انہماک سے سرانجام دینا یہ دونوں پہلو آپ کی وفات تک اس طرح قائم و دائم رہے کہ عمر اور حوادث زمانہ ان پر اثر انداز نہ ہو سکے"۔ (9) اللہ تعالیٰ کی مدد صرف صادقوں کے ساتھ ہے نعمت خلافت سے محرومی اور مرکز سے علیحدگی کے نتیجہ میں اہل پیغام ایمان و تقوی کے تقاضوں سے دور ہوتے چلے گئے اور یہ جھوٹ پھیلانا شروع کیا کہ میاں صاحب (حضرت خلیفہ المسیح الثانی) نے گورنمنٹ کو درخواست دی ہے کہ وہ انہیں سرکاری طور پر خلیفہ تسلیم کرلے لیکن