انوارالعلوم (جلد 2) — Page 130
انوار العلوم جلد ۲ ۱۳ تحفة الملوک ہے جو ہزاروں طریقوں سے دنیا کو مسیحی مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کانے سے مراد یہی ہے کہ دین کی آنکھ اس کی بند ہو گی صرف دنیا میں مشغول ہو گا جیسا کہ ظاہر بھی ہے اور یہ تاویلات بعیدہ نہیں ہیں بلکہ احادیث اسکی تصدیق کرتی ہیں جیسا کہ ابن صیاد کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ا اس کے پاس گئے اور حضرت عمرؓ نے اجازت طلب فرمائی کہ اسے قتل کر دیں اور قسم کھائی کہ یہی دجال ہے حالانکہ وہ کانا نہ تھا اور دوسری علامات بھی اس میں پائی نہ جاتی تھیں اور آنحضرت ا نے بھی گو آپ کو قتل سے روک دیا لیکن قطعی طور پر اس کے دجال ہونے سے انکار نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ا بھی اور حضرت عمر بھی اس بات کو قرین قیاس خیال فرماتے تھے کہ وہ علامات جو دجال کی بابت بیان کی گئی ہیں ممکن ہے کہ اپنے ظاہری معنوں کے علاوہ کسی اور رنگ میں پوری ہوں ورنہ چاہئے تھا کہ آپ حضرت عمرؓ سے فرماتے کہ تم اسے دجال کیونکر کہتے ہو حالانکہ نہ یہ کانا ہے نہ اس کے پاس گدھا ہے پھر یہ مدینہ ما رہتا ہے مگر آپ کا حضرت عمرؓ کے قول کا پوری طرح رو نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ آپ دجال کے معاملہ میں تاویل کی گنجائش کے معتقد تھے۔ میں یہ امر بھی خاص طور پر قابل غور ہے کہ مسیح اور دجال کے متعلق جس قدر اخبار ہیں وہ سب بطور پیشگوئیوں کے ہیں اور اخبار غیبیہ ہمیشہ تعبیر طلب ہوتی ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ہاتھ میں کڑے سونے کے دیکھے لیکن ان کی تعبیر یہ فرمائی کہ در مدعیان کا ذب خروج کریں گے اب جو شخص زور دے کہ میں تو اس تعبیر کو نہیں مانتا وہ غلطی کرتا ہے پس مسیح موعود اور دجال کی نسبت جس قدر اخبار ہیں محتاج تعبیر ہیں اور اپنے وقت پر ظاہر ہو کر ہی ان کی صداقت کا پتہ لگ سکتا ہے چنانچہ جب معاملہ کھل گیا تو اب بات صاف ہو گئی اور ہر ایک شخص جو ذرا بھی تدبر کرے سمجھ سکتا ہے کہ دجال سے مراد در حقیقت پادری لوگ ہی ہیں جو مسیح کی خدائی منواتے پھر رہے ہیں اور ان کے مارنے سے مراد ان کے مکائد کا رفعیہ ہے چنانچہ حدیث يَكْسِرُ الصليب بھی اس بات پر شاہد ہے کہ مسیح موعود مسیحی دین کو دلائل و براہین سے ایسار د کرے گا کہ آخر صلیب ٹوٹ جائے گی یعنی اکثر لوگ اسلام قبول کریں گے اور مسیحیت کا زور ٹوٹ جائے گا۔ ورنہ یہ خیال نہایت ہی لغو ہو گا کہ حضرت مسیح آکر لکڑیاں توڑتے پھریں گے یہ بات ایک نبی کی شان کے خلاف ہے۔ مذکورہ بالا دونوں شبہات کے دور ہونے کے بعد یعنی بعد اثبات وفات مسیح و خروج دجال بموجب خبر آنحضرت مسیح موعود کا اسی امت میں سے ہونا ضروری ہے اور اس کا زمانہ ہیں