انوارالعلوم (جلد 2) — Page 124
انوار العلوم جلد ۲ ۱۲۴ تحفة الملوك اور بڑی شان والی اشیاء کا ان سے ادنی مرتبہ والی اشیاء سے پہلے ذکر کیا جاتا ہے۔ مجھے اس بات کے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ ایک مسلمان توریت اور انجیل کو مان کر قرآن کریم کو نہیں مانتا بلکہ چونکہ وہ قرآن کریم کو مانتا ہے اس لئے توریت اور انجیل کو بھی مانتا ہے اور اگر قرآن کریم ان کتب کی تصدیق نہ کرتا اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح علیہ السلام کے دعاوی کے برحق ہونے کی شہادت نہ دیتا تو ہمارے پاس کوئی ثبوت نہ تھا کہ ہم ان دونوں برگزیدوں کو خدا کے نبی یقین کرتے پس ایک مسلمان کا ایمان پہلی کتابوں پر اس لئے نہیں کہ اس نے ان کی صداقت کا امتحان کر لیا ہے بلکہ صرف اس لئے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ کتب بچی ہیں اگر قرآن کریم ان کی صداقت کی شہادت نہ دیتا تو بہت سے مسلمان ان کو کتب سماویہ میں داخل کرنے سے بالکل انکار کر دیتے کیونکہ ان کتابوں میں اس قدر تحریف ہو چکی ہے کہ انہیں پڑھ کر تعجب ہوتا ہے مثلاً تو ریت کے آ آخر میں موٹی کی نسبت یہ لکھا: یہ لکھا ہوا ہوتا کہ پھر موئی مرگیا اور اب تک اس کی قبر کا پتہ نہیں ملتا اور اب تک اس جیسا کوئی انسان نہیں پیدا ہوا صاف بتا رہا ہے کہ حضرت موسی کی وفات کے سالہا سال بعد یہ فقرات لکھے گئے ہیں پھر ہم اسے موسی کا الہام کیونکر کہہ سکتے ہیں غرض کہ توریت و انجیل کو اگر ہم مانتے ہیں تو صرف اس لئے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ کتابیں بھی ابتداء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی اتری تھیں پس ہمارا ان پر ایمان لانا براہ راست نہیں بلکہ قرآن کریم کے ذریعہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ بالکل درست ہے اور اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں۔ یہ آیت اس ترتیب سے اپنے پورے معانی ادا کر سکتی ہے اگر اُنْزِلَ إِلَيْكَ کو پیچھے کر کے اس کے معنے کریں اور تقدیم و تاخیر کو تسلیم کریں تو وہ لطیف اشارہ جو اس آیت میں قرآن کریم کے اس احسان کی طرف کیا گیا ہے جو اس نے کتب سابقہ پر کیا ہے باطل ہو جاتا ہے اور وہ لطافت اس کلام میں رہتی ہی نہیں کیونکہ گو پہلی کتب نزول کے لحاظ سے پہلے ہیں لیکن مسلمان کا ایمان ان پر قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد ہوتا ہے مثلاً ایک ہندو جب اسلام لاتا ہے تو کیا انجیل اور توریت کو مان کر پھر قرآن کو مانتا ہے یا پہلے قرآن کریم کو مان کر اس میں ان کتب کی تصدیق دیکھ کر ان کتب پر ایمان لاتا ہے ؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ پہلے قرآن کریم کو مانتا ہے پھر اس کے اشارہ سے ان کی صداقت کو بھی تسلیم کرتا ہے اور چونکہ اس آیت میں ذکر بھی ایمان لانے کا ہے اور ایمان کے لحاظ سے ایک مسلمان قرآن کریم کو مان کر پھر دوسری کتب کو مانتا ہے پس ضروری تھا کہ جس ترتیب سے یہ آیت ہے اس ترتیب سے AP