انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 122

انوار العلوم جلد ۲ ۱۲۲ تحفة الملوك کوڈ کے دفعات کو لوگ الٹ پلٹ کر دیں اور اگر کوئی حج ایسی حرکت کرے تو فورا اسے علیحدہ کیا جائے کیونکہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اسے حج رکھا جا سکے ۔ اور چونکہ جناب کو اللہ تعالی نے حاکم بنایا ہے اس مسئلہ کو جناب بہت بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ قانون کے الفاظ کو بغیر ہدایت شارع آگے پیچھے کرنے سے کس قدر خطر ناک نقصانات کا احتمال ہو سکتا ہے پھر خدا تعالیٰ کے کلام کو نہایت دلیری سے اپنے منشاء کے ماتحت چلانا اور جہاں چاہنا کہہ دینا کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی ہے کس طرح جائز ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کون شخص فصیح کلام کر سکتا ہے ؟ وہ خود الفاظ کو آگے پیچھے کر سکتا تھا ضعیف انسان کا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں دعوی کرنا کہ خدا تعالیٰ نے جس لفظ کو پہلے رکھا ہے میں اسے پیچھے کروں گا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر خود قرآن کریم ہی فرما دیتا کہ اس لفظ کو پہلے رکھو اور اس کو پیچھے تو وہ اور بات تھی یا خود آنحضرت ا ایسا فرما دیتے تب بھی بات تھی لیکن ہمارا ایسی دلیری کرنا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا اور ایسی حرکت کو اپنے قانون کے متعلق دنیاوی حکومتیں بھی جائز نہیں قرار دیتیں چہ جائیکہ خدائے علیم و خبیر اپنے کلام میں اس تصرف کو پسند فرمائے ۔ نعوذ باللہ من ذلک۔ جناب اس بات کو دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آیت حضرت مسیح کی وفات کے متعلق کیسی صاف ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے مجھے وفات دونگا اور تیرا درجہ بلند کروں گا۔ اور تجھے پاک یہ سب قرار دونگا اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دو نگا اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ - باتیں پوری ہو چکی ہیں۔ حضرت مسیح کا رفع بھی ہو چکا ہے آپ کو قرآن کریم نے ان سب الزامات سے جو یہود آ۔ ر آپ پر لگاتے تھے پاک بھی قرار دے دیا آپ کے متبعین کو آپ کے منکرین پر غلبہ بھی مل چکا ہے اب اگر مُتَوَفِّيكَ کا وعدہ پورا ہونا باقی ہے تو اس کا مقام یوم قیامت ہی ہے کیونکہ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ کا عرصہ قیامت کے دن تک ممتد ہے پس اگر متوفيك کا وعدہ اس سے پہلے پورا ہونا تھا تو چونکہ غلبہ نصاری بر یہود ہو چکا ہے آپ ؟ پ فوت بھی ہو چکے ہیں اور اگر بفرض محال تقدیم و ا تقدیم و تاخیر کی وجہ سے اس کے بعد متوفيك کا وعدہ پورا ہوتا ہے تو یہ وعدہ تو قیامت تک چلا جائیگا اس کے بعد وفات کا یہ مطلب ہے کہ جب سب لوگ زندہ کئے جائیں گے اس وقت مسیح علیہ السلام کو وفات دی جائیگی اور یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ وقت زندہ کرنے کا ہو گا نہ مارنے کا۔ تو مجبور ا یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح وفات سے بالکل محفوظ رہیں گے اس سے ایک تو مُتَوَفِّيكَ کی تکذیب ہوتی ہے دوسرے مسیح کو خدا ماننا پڑتا ہے کیونکہ موت