انوارالعلوم (جلد 2) — Page 99
انوار العلوم جلد ۲ ۹۹ تحفة الملوك ہوتیں جن کی مثمر ایک مسلمان کی عبادت ہوتی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اس مغز سے خالی ہیں جو اسلامی عبادت میں ہے بلکہ وہ ایک قشر ہے جو بظاہر اسلامی عبادت سے ملتا ہے لیکن اندر سے ان فوائد سے خالی ہے جو اسلامی عبادت میں ہیں پس اگر مسلمانوں کی نماز بھی اس حقیقت سے محروم ہو جائے جس کی وجہ سے اسے دوسرے مذاہب کی عبادات پر فضیلت تھی تو اس میں اور دیگر مذاہب کی عبادات میں کچھ فرق نہیں بلکہ مشقت کے لحاظ سے وہ اس سے زیادہ ہیں کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ اہل ہنوں میں عبادت کے ایسے ایسے طریق رائج ہیں جن کی مشقتوں کا مقابلہ اسلامی نماز قطعا نہیں کر سکتی۔ مثلاً بعض ان میں ایسا کرتے ہیں کہ صبح سورج نکلنے سے پہلے مشرق کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور جو نہی کہ سورج نکلتا ہے اسکی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور کچھ منتر پڑھتے جاتے ہیں اور شام تک اسی طرح کھڑے سورج کو دیکھتے رہتے ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی آنکھوں کو اس سے نہیں پھیرتے حتی کہ وہ غروب ہو جاتا ہے یا مثلا یوں کرتے ہیں کہ جاڑے کے موسم میں سرد پانی میں کھڑے ہوئے تپسیا کرتے ہیں اور گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھ کر اپنے ارد گرد آگ کے الاؤ جلا لیتے ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو عذاب دوزخ میں مبتلاء کر لیتے ہیں پس مشقت کے لحاظ سے ان کی عبادات اسلامی عبادات سے بڑھ کر ہیں پھر اگر مسلمانوں کی نماز بھی مغز سے خالی ہو جائے تو اس کو ان عبادات پر کوئی فضیلت نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اسلامی نماز کی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر - (العنکبوت: ۴۶) نماز انسان کو بے حیائیوں اور مکروہ افعال سے باز رکھتی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر سوائے شاذ و نادر کے مسلمان مساجد میں جا کر نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور نہ صرف فرض نمازیں بلکہ نوافل بھی ادا کرتے ہیں اور پھر مسجد سے نکل کر کسی قسم کے گناہ سے ان کو پر ہیز نہیں ہوتا جھوٹ وہ بولتے ہیں، رشوت وہ لیتے ہیں، فریب وہ کرتے ہیں، خیانت سے ان کو پر ہیز نہیں تجارتی دھوکوں سے وہ مجتنب نہیں غرض کہ ہزاروں قسم کے گناہوں میں مبتلاء ہیں پھر کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان نمازیں ادا کرتے ہیں اگر وہ نماز کو انہی شرائط کے ساتھ ادا کرتے جو اسلام نے مقرر کی ہیں تو ان کے قلوب پاک ہو جاتے اور گناہوں کی میل دور ہو جاتی اور ہر قسم کے گناہوں اور بدیوں سے محفوظ ہو جاتے کیونکہ نماز میں اللہ تعالی نے ایسی حکمتیں مخفی رکھی ہیں کہ اسے سنوار کر پڑھنے والا اور ان شرائط کو ملحوظ رکھنے والا جو اللہ تعالٰی نے ادائے نماز میں مقرر فرمائی ہیں اپنے اندر فورا ایک خاص تبدیلی پاتا ہے اور زیادہ دن گزرنے نہیں پاتے کہ اس