انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxvii of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxxvii

انوار العلوم جلد 26 26 تعارف کتب یہ جلسہ کوئی دنیوی میلہ نہیں بلکہ یہ خدا اور اُس کے رسول کے ساتھ تمہارا ملاپ پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے۔ پس اس امر کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہ ہونے دو۔ اور دعاؤں اور ذکر الہی میں ہر وقت مشغول رہو اور اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرو۔ - اگر آپ لوگ اسلامی اجتماعات پر غور کریں تو آپ کو نہایت آسانی سے یہ امر معلوم ہو سکتا ہے کہ تمام اسلامی اجتماعات کی رُوحِ رواں صرف ذکر الہی اور دعا اور انابت الی اللہ ہی ہے۔ نماز ہے تو وہ دعا اور ذکر الہی پر مشتمل ہے ۔ جمعہ - ا ہے تو وہ بھی وعظ و نصیحت اور دعا اور ذکر الہی پر مشتمل ہے۔ عیدین کی نمازیں ہیں تو اُن میں بھی اٹھتے بیٹھتے ذکر الہی کی تاکید ہے۔ یہی نسخہ ہے جو ہر اجتماع کو با برکت بناتا ہے۔ پس اس نسخہ کو کبھی مت بھولو اور اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے اور اسی طرح اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے رات دن دعائیں کرتے رہو۔ اور پھر یہ بھی دعا ئیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان مقصد کو جلد سے جلد پورا فرمائے جس کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ ہمیں اپنی موت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر ہماری اولاد در اولاد کو بھی یہ توفیق بخشے کہ وہ قیامت تک اس جھنڈے کو اونچا رکھتی چلی جائے یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے" نیز حضور نے اس روح پرور خطاب میں اگلی نسل میں ایمان، تقویٰ اور تبلیغ کے جذبہ کو سرایت کروانے کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلائی ۔ کوسرایت رایت کروانے کی طرف ان الفا " میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اسے صرف اپنے اندر ہی ایمان پیدا کرنے کی میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہا۔ کوشش نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگلی نسل کو بھی دین کا جاں شار خادم بنانے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ دنیا میں کوئی شخص یہ پسند نہیں کر سکتا کہ وہ تو عالم بن جائے مگر اُس کا بیٹا جاہل رہے یا وہ تو امیر بن جائے مگر اُس کا لڑکا کنگال رہے۔ پھر نہ معلوم لوگ اپنی اگلی نسل کو دین کے راستہ پر قائم رکھنے کے لیے کیوں مضطرب نہیں ہوتے اور کیوں وہ دیوانہ وار اس کے لئے جد و جہد نہیں کرتے۔“